آدھا ملک پٹے پر؟ بی بی سی اردو کی غیر میعاری رپورٹنگ۔20 نومبر 2008

بی بی سی اردو کے بین الاقوامی صفحے پر جنوبی کوریائی کمپنی ڈائیوو کے متعلق خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ کمپنی نے افریقی ملک مڈگاسکر کی پچاس فیصد زمین یعنی آدھا ملک لیز یا پٹہ پر حاصل کر لیا ہے۔ خبر بذات خود اچنبھے کا باعث ہے اور ایک صحافی کے لیے ناقابل یقین۔ بلاگر قدیر احمد نے اس لنک کو اپنے بلاگ میں شائع کیا اور فوراَ ہی زیک نامی مبصر نے اس کی تصیح کر دی کہ دراصل حاصل کی گئی زمین پورے ملک کے مکمل رقبے کا صرف 2 فیصد ہے نہ کہ پچاس فیصد۔

پاک فیکٹ نے قارئین کے لیے مکمل اعدادو شمار اکھٹے کیے ہیں اور ایک اور پہلو سے انتہائی درجے کی غفلت کا جائزہ لیا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ڈائیوو کی لیز کردہ کل زمین تین اعشاریہ دو ملین ایکڑ ہے جس کو سادہ ضرب تقسیم کی مدد سے مربع کلو میٹر میں تبدیل کیا جائے تو 12949 مربع کلو میٹر بنتے ہیں۔ مڈگاسکر کا کل رقبہ 587041 مربع کلو میٹر ہے یعنی حاصل کی گئی زمین صرف اور صرف دو اعشاریہ دو فیصد ہے۔

سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی بی سی کی ورلڈ سروس یا انگریزی ورژن میں خبر کو اسطرح پیش نہیں کیا گیا لیکن اعدادو شمار میں پھر بھی فرق نظر آتا ہے جس سے مختلف زبانوں کے لیے ایک ہی ادارے کی طرف سے مختلف میعارات کا شائبہ ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اردو سیکشن میں بین الاقوامی خبروں میں اسے سر فہرست دکھایا گیا ہے جبکہ فارسی اور عربی کے بین الاقوامی سیکشن میں اُسی وقت اس خبر کا کوئی تذکرہ نہیں اور نہ ہی انگریزی ورژن میں اسے شہ سرخی کا درجہ دیا گیا ہے۔




تجزیہ
پاک فیکٹ کے مطابق بی بی سی جیسے بڑے ادارے سے اسطرح کی خبروں کی اشاعت سنگین درجے کی غفلت اور مختلف زبانوں کی خبروں کے دوہرے میعارات کا مظہر ہے۔ گو کہ اس خبر کا اثر بہت محدود ہے لیکن ملکی سطح کے کسی بڑے واقعے میں ایسی غفلت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

References:
Bloomberg News
http://en.wikipedia.org/wiki/Madagascar
http://www.metric-conversions.org/area/acres-to-square-kilometers.htm

اپ ڈیٹ 1، نومبر 29، 2008۔
پاک فیکٹ نے بی بی سی اردو کو اس خبر سے متعلق وضاحت کے لیے رابطہ کیا، تاحال کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا ہے اور خبر ویب سائٹ پر موجود ہے۔

2 آراء دي گئيں

1 منصور بتاريخ: Sunday، 30 November 2008 بوقت: 2:22 pm

عمدہ تحقیق کی ہے۔۔
بی بی سی اردو کا کمزور پہلو کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ دو ہفتے ہو گئے کالم سیکشن میں ایک بھی کالم پڑھنے کو نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔

2 ابوشامل بتاريخ: Tuesday، 2 December 2008 بوقت: 12:20 am

بی بی سی کا شعبہ اردو اس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اس میں اردو سے وابستہ صحافی شامل نہیں کیے جاتے۔
اب تک بی بی سی شعبہ اردو میں جتنے صحافی بھی شامل کیے گئے وہ تمام پاکستان و دیگر ممالک میں انگریزی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔ اس لیے وہ غلطیاں ہی کر سکتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اردو ترجمے کا معیار بھی سب کو معلوم ہے، کبھی بی بی سی کی انگریزی خبر اور اس کے اردو ترجمے کا موازنہ کیجئے گا، بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔
یہ ہے وہ “اعلی ترین ذریعہ” جس کا اردو فورمز پر لوگ حوالہ دے کر اسے اپنی دلیل سمجھتے ہیں۔ اللہ ہی سمجھائے ان کو۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو