علمی سرقہ - روزنامہ جسارت اور بی بی سی اردو ایڈیشن 18 نومبر 2008

قارئین کے علم میں یہ بات ہوگی کہ بیشترپاکستانی انگریزی اور اردو اخبارات انٹرنیٹ اور دیگراخباری ذرائع سے حاصل کی گی خبروں اور کالموں کو بلا کسی حوالے یا انتہای مختصریک حرفی استعارے کے ساتھ اپنا بنا کر چھاپ دیتے ہیں جو کہ صحافتی اور علمی اصولوں کے علاوہ عمومی اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے اور چوری یا علمی سرقہ کے زمرے میں آتا ہے. اس کی ایک تازہ مثال بی بی سی اردو کے کالم نگار وسعت اللہ خان صاحب کا 18 نومبر کا مضمون “بس میرا نام نہ آئے” ہے جو کہ روزنامہ جسارت نے اپنی 19 نومبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع کیا ہے. ستم ظریفی یہ کہ یہ مضمون بذات خود “آزادی صحافت” کی اس صنف کی جانب اشارہ کرتا ہے جہاں پر ‘انٹرنیٹ صحافی حضرات’ علمی سرقے کے مرتکب ہوتے ہیں اور بعد ازاں ان چوری کی گیء خبروں کو ‘آن لائن نیوز’، ‘انٹرنیٹ ڈیسک’ یا اس صورت میں جسارت نیوز کے نام سے چھاپ دیا جاتا ہے.  وسعت اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں

“متعدد اخبارات و چینلز کسی بھی ویب سائٹ یا نشریاتی چینل سے مواد ، مضامین اور کالم لے اڑتے ہیں اور پھر انہیں بغیر حوالے کے اس طرح سے شائع یا نشر کرتے ہیں جیسے یہ خالصتاً ان کی کاوش ہو۔شاید سرقے، چوری اور اشاعتی حقوق کی پامالی کو بھی آزادی صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے

اور غالبا ان کے یہ الفاظ درست ثابت کرنے کی کاوش میں  روزنامہ جسارت نے وہی کیا جس کا اس کالم میں ذ کر کیا گیا ہے.

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات مجرمانہ درجے کے علمی سرقہ میں ملوث اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور یہ کاپی رایٹ قوانین کی صریحا خلاف ورزی اورعام قاری سے دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے. کالم کو علمی سرقہ، سنگین غفلت  اور کاپی رائٹ قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی  کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔

:حوالہ جات

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081118_geo_secret_rza.shtml
http://www.jasarat.com/2008/11/19/mm/01.jpg

5 آراء دي گئيں

1 يوں نہ تھا ميں نے فقط چاہا تھا يوں ہو جائے » Blog Archive » ہولی کاؤ بتاريخ: Thursday، 20 November 2008 بوقت: 1:56 am

[...] گردی کرتے ہوئے پاک فیکٹ کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی تو ہمارے دہن سے بھی دو لفظی حیرانگی ٹپک پڑی۔ عموماَ نئے لکھنے والے بلاگرز [...]

2 ڈفر بتاريخ: Thursday، 20 November 2008 بوقت: 3:36 am

آخر کو جسارت نام ہے اخبار کا

3 ابوشامل بتاريخ: Tuesday، 2 December 2008 بوقت: 12:21 am

تیسری ذیلی سرخی میں “بی بی سی” لکھا گیا ہے۔ تو یہ سرقہ کس طرح ہوا۔ ہاں البتہ dateline میں (جسارت نیوز) لکھا ہے جو غلطی ہے۔

4 Pak Fact بتاريخ: Tuesday، 2 December 2008 بوقت: 1:04 am

ابوشامل صاحب بلاگ میں آمد کا شکریہ اور آپ کی توجہ دلانے پر مزید شکریہ۔
اسکو سرقہ لکھنے کی وجہ یہ بنی کہ یہ دراصل وسعت اللہ خان کی کالم یا بلاگ نما تحریر ہے اور اس کو بی بی سی کے مطابق کہنا تکنیکی اعتبار سے درست نہیں۔ بی بی سی کی خبروں کی بات علحیدہ ہے لیکن ایک صحافی کی رائے کو جلی سرخیوں میں بی بی سی کے حوالے سے چھاپنا یہاں تک کے پورا مضمون کاپی کرلینا ایسا ہی ہے جیسے ایکسپریس نیوز جنگ میں شائع شدہ ارشاد احمد حقانی کے کالم کو خبر بنا کر اپنے اخبار میں چھاپ دے۔

5 ابوشامل بتاريخ: Friday، 5 December 2008 بوقت: 1:06 am

آپ کی بات درست ہے۔ اس پہلو سے توجہ دلانے کا بہت شکریہ۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو