روزنامہ جسارت کی اتوار 28 دسمبر کی اشاعت میں موجودہ درج ذیل خبر جو غزہ حملوں اور سی این این میں اس کی رپورٹنگ کی عدم موجودگی کے بارے میں ہے سراسر بے بنیاد اور غیر ضروری پراپیگنڈہ رپورٹنگ کا شاہکار ہے.
| From PakFact Blog |
سی این این اوردیگرمغربی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کو نا صرف اپنے ویب سایٹ کے صفحہ اول پر جگہ دی ہے بلکہ اپنی براڈکاسٹ میں بھی اس کو سر فہرست رکھا ہے۔ اس بات میں بلاشبہ دو رائے موجود ہیں کہ خبریں جانبدار ہیں یا غیر جانبدار لیکن ان کی موجودگی بلکہ ہمہ وقت موجودگی سے انکار اخبار کے قارئین سے کھلا دھوکا ہے۔
| From PakFact Blog |
| From PakFact Blog |
تجزیہ۔
پاک فیکٹ کے مطابق یہ محض پراپیگنڈہ رپورٹنگ ہے اور یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور جسارت کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی یا دانستہ صرف نظر کا ثبوت۔
نوٹ:
غزہ کی صورت حال اور اس منظر میں پیش کی جانے والی رپورٹس کی جانبداری اور غیر جانبداری اس پوسٹ کا بنیادی موضوع نہیں ہے اور نہ ہی اس میں سی این این یا دوسرے بین الاقوامی میڈیا کے کردار کو موضوع بنایاگیا ہے اس سلسلے میں دوسری بحث رکھی جاسکتی ہے۔
15 آراء دي گئيں
جناب ۔ ایک تو عرض کرتا چلوں کہ یہ خبر جسارت کی اپنی نہیں بلکہ آج ٹی وی کی خبر تھی ۔ میں نے خود آج ٹی وی کی ویب سائٹ پر یہ خبر دیکھی تھی۔
اور دوسری بات ۔ جناب آپ باقی اخبارات سے متعلق بھی کچھ تحقیق کیا کریں ۔ صرف ایک دو اخبارات تک محدود نہ رہیئے۔
شکریہ
زین زیڈ ایف صاحب آپ کے تبصرے کا شکریہ۔ کیونکہ پرنٹ میڈیا میں جسارت کے ذریعے یہ خبر ہم تک پہنچی ہے اور جسارت میں اس کا ماخذ “مانیٹرنگ ڈیسک” ہے چناچہ اسے جسارت کے حوالے سے ہی دیکھا گیا ہے اگر آج ٹی وی نے یہ خبر اپنی ویب سائٹ پر لگائی ہے تو ہم انتہائی مشکور ہوں گے اگر آپ وہ اپنے تبصرے میں فراہم کردیں۔ بنیادی طور پر ماخذین کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اصل نکتہ جوںکا توں رہے گا۔
جہاں تک اخبارات کا تعلق ہے تو ہمارے حساب سے ایک دو اخبارات ہی ایسے ہیں جنہیں اخبار کہا جاسکتا ہے اور سرکلیشن کے حساب سے وہی اخبارات زیادہ پڑھے جاتے ہیں اس لیے دائرہ کار ان تک محدود ہے اب شام کے نکلنے والے یا بہت زیادہ مقامی اخبارات کے تجزیے کرنا بے انتہا دقت طلب اور وقت کا متقاضی ہے۔ اردو بلاگ ہونے کی وجہ سے اردو اخبارات ہی زیادہ زیر تبصرہ آتے ہیں اور اردو اخبارات کی فہرست اتنی طویل نہیں۔ جنگ، ایکسپریس، جسارت، امت، نوائے وقت۔ اور انگریزی میں ڈان، نیشن، دی نیوز اور چند اور۔ کہنے کا مقصد یہ کہ گھوم پھر کر ماخذ کے طور پر آپ کو ایک دو نام ہی نظر آئیں گے۔ ویسے بھی مقصد تنقید برائے تنقید نہیں ہے اس لیے صرف انتہائی صورتوں میں خبر کو پرکھا جاتا ہے۔
جسارت جماعت اسلامی کا ہے اور جماعت اسلامی کو سچ سے کوئی غرض نہيں- انہي کے ايک صاحب مجيب الرحمن شامی ايک اخبار روزنامہ پاکستان نکالتے ہيں، اگرچہ اس اخبار کا نام روزنامہ نا پاکستان ہونا چاہيئے جوکہ مودودی صاحب کا پاکستان کے بارے ميں فتوی تھا- خير اس اخبار ميں اگلے دن مجيب الرحمن شامی نے دو طياروں کی تصوير دی اس کيپشن کے ساتھ کہ يہ وہ بھارتی طيارے ہيں جو کشمير ميں فارورڈ بيسز پہ بھجوا ديئے گئے ہيں- ايک طيارے کي ٹيل پہ واضح طور سے جے ايف سترہ اور پاکستان کے کلرز نظر آرہے تھے اور دوسرا طيارہ ايف تھرٹی فائو جائنٹ اسٹرائک فائٹر تھا جو امريکہ کا جديد طيارہ ہے اور ابھی بھارت سميت کسی اور ملک کو فراہم نہيں کيئے گئے-
جناب مدیرپاک فیکٹ
میری دانست میںلاعلمی کا مظاہرہ آپ نے کیا ہے نہ کہ روزنامہ جسارت اور دیگر اخبارات یا آج ٹی وی نے۔
اگر آپ کو یاد ہو تو غزہ پر اسرائیلی حملہ 27دسمبر 2008 ء کو ہوا ۔ اس دن کے واقعات کے حوالے سے خبریں 28دسمبر کے اخبارات میںشائع ہوئیں۔ آپ نے ویب سائیٹ کے جو اسکرین شاٹ دیئے ہیںوہ 28دسمبر کے ہیںنہ کہ 27دسمبر کے۔
حقیقت یہ ہے کہ 27دسمبر کو بھارتی اور امریکی میڈیا غزہ میں حملے پر خاموش رہا۔ میں نے خود بھارت کے سب سے بڑے روزنامے ہندوستان ٹائمز کی ویب سائیٹ دیکھی جس میں ڈیڑھ سو فلسطنیوں کے قتل کی خبر محض ایک کونے میں سرسری انداز میں دی گئی ۔ امریکی ٹی وی چینلز بھی اس روز خاموش رہے۔
مغربی میڈیا غزہ کی طرف اس وقت متوجہ ہوا جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ طویل کارروائی کر رہا ہے ۔
میری رائے میںآپ بغیر تحقیق بے جا تنقید کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اس موضوع کے جذباتی بننے میں لامحالہ کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔
قصہ صرف اتنا ہے کہ کم از کم امریکی میڈیا میں دسمبر کے کافی شروعات سے ہی جنگ بندی ختم ہونے اور اس کے بعد جنگ کے امکانات، اسرائیلی حملے اور اسطرح کی چیزوں کی شروعات ہوچکی تھیں۔ سی این این ، ایم ایس این بی سی، نیویارک ٹائمز اور اسطرح کے دوسرے مین اسٹریم اور پبلک ریڈیوز اور ٹی وی کی ویب سائٹس پر سرچ کرنے پر پورے دسمبر غزہ کے حوالے سے مین اسٹوریز دستیاب ہیں۔ بلکہ پاکستانی اردو میڈیا کو جب یہ خبر بھی نہ تھی کہ غزہ کی جنگ بندی کب ہوئی اور کب ختم ہوگی بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں جگہ پاچکی تھیں۔ چناچہ یہ کہنا کہ 27 اور 28 دسمبر کوئی خبر سی این این اور امریکی میڈیا میں نہیں چلائی گئی درست نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا کی غزہ کے حوالے سے بیشتر خبریں اور ویڈیوز دراصل انہیں بین الاقوامی خبر رساں اداروں سے ہی حاصل کردہ ہیں۔ جیسا کے پہلے عرض کیا گیا کہ خبروں کی جانبداری اور غیر جانبداری پر بحث ہوسکتی ہے لیکن ان کی موجودگی کا یکسر انکار کی صورت میں ہم اپنے تجزیے پر قائم ہیں
http://topics.edition.cnn.com/topics/gaza_strip
http://www.msnbc.msn.com/?id=11881780&q=Gaza&p=2&st=1
http://www.foxnews.com/story/0,2933,475664,00.html
یہ پروگرام دسمبر 18 کو این پی آر سے نشر ہوا جو پورے امریکہ میں پبلک ریڈیو کے نیٹ ورک پر سنا جاتا ہے۔
http://www.npr.org/templates/story/story.php?storyId=98449470
دسمبر 18 نیویارک ٹائمز
http://www.nytimes.com/2008/12/19/world/middleeast/19gaza.html?_r=1&scp=39&sq=Gaza&st=nyt
دسمبر 24 واشنگٹن پوسٹ — اکاؤنٹ بنانا ہوگا –
http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2008/12/24/AR2008122401245.html?sub=new
پاکستان میںاخبارات اور ٹی وی پر صرف غنڈہ گردی۔ منفی پروپگنڈا اور بلیک ملینگ ہوتی ہے
جس میں ہر کوئی پیش پیش ہے کل جنگ کی گھربیٹھ کر بنائی گئی ایک خبر
http://abdulqudoos.info/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1%da%a9%d9%88%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d9%be%d9%84%d8%a7%d9%86/
کے بارے میں یہاں لکھا ہے
جاوید صاحب کا تبصرہ سب سے ٹھیک اور حقیقت پر مبنی ہے
ویسے کتنی کو سرکولیشن ہو گی جسارت کی؟
میں نے تو نام بھی اسی سائیٹ پر دیکھا ہے
میں تو مجیب الرحمان شامی صاحب کو خاصا سینئر صحافی سمجھتا ہوں۔ انکا ایک رسالہ قومی ڈائجسٹ ہمارے گھر میں کافی عرصہ پڑھا جاتا رہا ہے گرچہ اردو ڈائجسٹ اس سے بھی پہلے اور تا حال ہمارے گھر کے چھوٹے بڑے پڑھتے ہیں۔ مجھے قومی ڈائجسٹ اسلئے پسند تھا کہ اسمیں بین القوامی ادب کا خاصا مواد ہوتا تھا۔
جاوید صاحب !
تو پھر ان ٹی وی چینلز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو متحدہ کے علاقائی یونٹ کے سیکرٹری کی بھی ایک منٹ کی خبر چلاتے ہیں۔؟
لیکن جب ہمارے ہاں وزیراعلیٰ پریس کانفرنس بھی کرتے ہیںتو ان کی خبر تیس سیکنڈ سے زیادہ نہیں چلتی ؟
یہ رہی آج ٹی وی کی وہ خبر ۔
http://www.aajtv.com/urdu/international/2008/12/27/page3_33295_1_story.html
اور مجھے یقین ہے کہ یہ خبر اکثر اخبارات نے شائع کی ہوگی۔ چونکہ میںکراچی میںنہیںہوتا اسلیے نہیںکہہ سکتا۔ آپ تلاش کریں باقی اخبارات نے بھی شائع کی ہوگی ۔
کیونکہ اکثر اخبارات یا ملکی خبر رساں ادارے ٹی وی چینل سے مانیٹرنگ یا ان کی ویب سائٹس سے خبریں اٹھاتے ہیں۔
اردو ٹائمز نے بھی یہی خبر آج ٹی وی سے لی ہے ۔
http://www.urdutimes.com/news/450/ARTICLE/12196/2008-12-28.html
روابط فراہم کرنے کا شکریہ زین زیڈ ایف صاحب۔ پچھلے تبصرے میں ہم نے مختلف اداروں کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹس کے روابط فراہم کردیے ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ غزہ پور بین الاقوامی میڈیا میں کوریج نہیں ہے۔ سیٹالائٹس چینلز بہت موضوعاتی ہوتے ہیں اور مثال کے طور پر اگر اخبارات کامیڈی سینٹرل پر غزہ کے بارے میں خبریں تلاش کریں تو یہ ممکن نہیں خاص طور پر سی این این کے بارے میں یہ کہنا کہ اس پر کوئی خبر نہیں تھی بالکل غلط ہے کیونکہ سی این این کے اپنے نمائندے اس علاقے میں موجود ہیں اور دوبارہ اسی بات کا اعادہ کریں گے کہ خبروں کی جانبداری اور غیر جانبداری کو موضوع بنایا جاسکتا ہے لیکن ان کی موجودگی کا یکسر انکار عدم توجہی، بلاوجہ کا پروپیگنڈا اور قاری سے دھوکا ہے۔
آج ٹی وی کی خبر اسی دن کی ہے جس دن اسرائیل نے غزہ پر پہلا حملہ کیا ۔ اور شاید اس وقت سی این این نے اس حملے کی خبر فوری طور پر نہیں چلائی ہو۔
i couldn’t understand the grumble aginst the daily jasarat.it seems like some one have personal grudge against the daily jasarat.seriously i want to ask is there any issue in it?
Was it a fact or not? Its not about personal issues; its just a matter of wrong reporting.
efezyjiqybuh…
rube goldberg machine ideas …
اپني رائے ديں