بی بی سی اردو کو میعار پر توجہ کی سخت ضرورت ہے۔

ہم جنس شادیوں کا مسئلہ امریکہ میں ہمیشہ سے سیاستدانوں کے لیے درد سر رہا ہے اور اپنی اپنی الیکشن مہمات کے دوران انہیں اس حوالے سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے دوران جہاں امریکی ووٹروں نے صدارت کے لیے ووٹ ڈالے وہیں ریاست کیلیفورنیا میں ہم جنس شادیوں پر پابندی پر ریفرنڈم بھی ہوا تھا جسے ریاست کے ووٹروں نے منظور کیا اور ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کردی۔ اس پورے قصے کو بین الاقوامی میڈیا میں زبردست کوریج دی گئی۔ براک اوبامہ کی صدارت سنبھالنے کی تقریب کے دعائیہ کلمات کے لیے رک وارن کا انتخاب اس پورے قصے میں ایک نیا موڑ ہے۔ رک وارن سیڈل بیک چرچ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے پروپ آٹھ کی منظوری کے لیے خطیر رقم فراہم کی اسی وجہ سے بائیں بازوں کی طرف جھکاؤ رکھنے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں یہ انتخاب اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا۔

بی بی سی اردو کو آن لائن اردو خبروں کے لیے اہم ماخذ مانا جاتا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بی بی سی اردو اپنی خبروں کا میعار برقرار نہیں رکھ  پارہا ہے اور بعض او قات اس طرح کی غلطیاں بی بی سی اردو میں دیکھنے میں آرہی ہیں جو سرسری ایڈٹنگ میں ہی دور ہو جانی چاہییں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا میں ہم جنسوں کی شادی کے مسئلے پر بی بی سی نے ایک چھوٹی سی خبر لگائی ہے لیکن اس چھوٹی سی خبر میں تین اہم غلطیاں ہیں۔

From PakFact Blog

سان فرانسسکو امریکی ریاست نہیں ہے بلکہ ریاست کیلیفورنیا کا ایک بڑا شہر ہے۔
ہم جنس شادیوں کی اجازت سب سے پہلے ریاست میساچوسٹس نے دی نہ کے کیلیفورنیا نے۔
پروپ آٹھ کی منظوری کا تناسب باون اعشاریہ تین فیصد ہے نہ کہ باون اعشاریہ ایک فیصد۔ کیونکہ یہ اتنا سخت مقابلہ ہے کہ اس میں اعشاریہ دو فیصد کا فرق پورے قانون میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔

ریفرنسز۔
http://vote.sos.ca.gov/Returns/props/map190000000008.htm
http://www.chicagotribune.com/news/columnists/chi-oped1221pagedec21,0,5205139.column
http://www.cnn.com/2008/US/06/16/feyerick.samesex.marriage/index.html
http://en.wikipedia.org/wiki/Massachusetts

تجزیہ۔
ایک بڑے ادارے کے لیے خاص طور پر جب کہ اردو پڑھنے والے کئی لوگ آن لائن خبروں کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں بین الاقوامی حالات و واقعات میں اس طرح کی غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک عام اردو قاری اگر اس خبر سے جغرافیائی اور سیاسی حوالے حاصل کرے تو اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاک فیکٹ کے کئی بلاگرز کا عام مشاہدہ ہے کہ امریکی شہروں اور ریاستوں کے فرق کو اردو میڈیا میں ملحوظ نہیں رکھا جاتا اور ایک بڑی تعداد شکاگو، لاس اینجلس، نیویارک سٹی، فلیڈیلفیا اور سان فرانسسکو جیسے بڑے شہروں کو ریاست کہہ دیتے ہیں۔ پاک فیکٹ کے مطابق خانہ پری کے لیے لکھا گیا یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور بی بی سی کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی کا ثبوت۔

7 آراء دي گئيں

1 زین زیڈ ایف بتاريخ: Wednesday، 31 December 2008 بوقت: 9:27 am

اتنے بڑے ادارے میں چھوٹی سی غلطی کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے ۔

امریکی ریاستوں کے حوالے سے مجھے بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

2 زیک بتاريخ: Saturday، 3 January 2009 بوقت: 12:07 am

میری نظر میں بی‌بی‌سی اردو کا معیار انگریزی بی‌بی‌سی والا نہیں‌بلکہ اردو اخبارات والا ہے۔ حقائق کی غلطیوں‌کے علاوہ آپ کو بی‌بی‌سی اردو کی بہت سی خبروں میں ایسے لگے گا جیسے خبر نہیں بلکہ ادارتی مضمون ہے جس میں کالم‌نگار کے اپنے خیالات بھی بہت حد تک شامل ہیں۔

3 عبدالقدوس بتاريخ: Saturday، 3 January 2009 بوقت: 1:23 pm

کمال ہے آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟؟؟؟

4 Pak Fact بتاريخ: Saturday، 3 January 2009 بوقت: 2:05 pm

زین زیڈ ایف صاحب بلاشبہ اتنے بڑے ادارے سے توقعات بھی بڑی ہوتی ہیں خاص طور پر جب کے اس کے قارئین کی تعداد بہت زیادہ ہو اور فنڈنگ کے لیے اشتہارات پر اتنا دارومدار نہ ہو۔

زیک صاحب آپ کی بات سو فیصد درست ہے اور اس پر سب سے مضحکہ خیز صورت حال اس وقت ہوجاتی ہے جب کالم نگاروں کے ذاتی خیالات کو کئی اردو اخبارات بی بی سی کے مطابق کہہ کر شہ سرخیوں میں جگہ دیتے ہیں۔

عبدالقدوس صاحب ایسا نہیں ہے کہ لکھنا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ بلاگ بہت موضوعاتی ہے چناچہ پوسٹ تیار کرنا اور اس کے تمام حقائق کی چھان پھٹک کرنے میں کبھی کبھی وقت لگتا ہے اور بعض اوقات متعلقہ معلومات حاصل نہ ہونے کی وجہ سے پوسٹ ملتوی کرنا پڑتی ہے تاکہ ہم خود اسی عمل کے مرتکب نہ ہوجائیں جس پر ہماری ساری تنقید ہے۔

5 عبدالقدوس بتاريخ: Sunday، 4 January 2009 بوقت: 11:03 am

زبردست ہے جناب جاری رکھیں لیکن کم از کم رفتار یہ ہونا چاہیے کہ پھر کوئی یہ سوال نا کرسکے

6 ابوشامل بتاريخ: Monday، 5 January 2009 بوقت: 1:20 am

میں آج یہ سوچ کر کمپیوٹر پر بیٹھا کہ آج بھی اگر پاک فیکٹ پر کوئی تحریر نہ نظر آئی تو ان سے خیر خیریت دریافت کر لی جائے :) ۔۔ آپ کا بلاگ بہت شاندار ہے لیکن میرے خیال میں آپ نے جو موضوع چنا ہے اس پر کافی مواد ہوتا ہے۔ ابھی چند روز قبل نوائے وقت کراچی میں بیک پیج پر ایک دو کالمی خبر چھپی جس میں سرخی موجود ہی نہیں تھی اس کے علاوہ بھی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بہت ساری خبریں زیر بحث آنی چاہئیں۔ بہرحال آپ کی تنقیدی تحریر کا شدت سے منتظر ہوں۔

7 Pak Fact بتاريخ: Monday، 5 January 2009 بوقت: 12:46 pm

ابوشامل صاحب آپ کی نوازش کا شکریہ۔ بے شک اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے بس اس سلسلے میں پاک فیکٹ بلاگرز احتیاط کرتے ہیں‌ کہ بلاگ کو متنازعہ نہ بنایا جائے بلکہ مقصدیت اور مشن اسٹیٹمنٹ‌کو بہر حال ملحوظ رکھا جائے۔ آپ اگر پاک فیکٹ بلاگر بننا چاہیں تو ہمارے صفحات حاضر ہیں۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو