ملکی سلامتی کے معاملات اور حساس موضوعات پر آزاد سے آزاد ملکوں کا میڈیابھی کچھ نہ کچھ جانبداری دکھاتا ہے اور سو فیصد غیر جانبداری نا ممکن نہیں تو ایک مشکل امر ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت میڈیا کی اپنے اپنے ملکوں سے جانبداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور دونوں ہی ممالک کے میڈیا میں آنے والی خبریں حقیقت سے اتنی دور ہوتی ہیںکہ کشمیریوں کی اصل آواز سننے کے لیے آپ کو لامحالہ بیرونی ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی اخبارات و جرائد کے مطابق انتخابات مکمل مسترد کردیے گئے تو بھاری میڈیا کے مطابق ٹرن آؤٹ 66 فیصد تھا اور یہ بات عام لوگوں کے علم میں ہے کہ دونوں ہی دعوے حقیقت کے ترجمان نہیں۔
کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن کہیںبہتر ہوتا ہے، اس تصویر کو دیکھیے اور اس پر دیے گئے کیپشن کو دیکھیے۔
![]() |
| From PakFact Blog |
تجزیہ:
اس تصویر کا تجزیہ پاک فیکٹ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہے۔

3 آراء دي گئيں
”نادان دوست سے دانا دشمن کہیںبہتر ہوتا ہے“ ہی تو بہترین تجزیہ ہے
یا شتر مرغ کی رح ریت میںسر دینا یا کبوتر کا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنا بھی پوری روح کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے
پاکستان کے صرف ان نام نہاد چند بڑے اخبارات کا ہی تجزیہ کیا جائے تو روزانہ ایک بلاگ پر کئی نئی تحاریر جنم لیں۔
یہ تصویر ادارے سے وابستہ افراد کی بے وقوفی کی معراج ہے۔
ڈفر بھائی شتر مرغکبھی اپنا سر ریت میں نہیں دیتا یہ تو ایسے ہی ہے جیسے سونے پر سہاگہ
دونوں محاورے غلط ہیں
اپني رائے ديں