اردو بلاگرز کی نا اہلی

اردو بلاگنگ ابتداء سے ہی بے انتہا مسائل کا شکار رہی ہے اور اب تک ایسی توجہ نہ حاصل کرسکی جس کی وہ بلاشبہ مستحق ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں صورت حال میں نہایت مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ صرف یہ کہ اردو بلاگنگ تیزی سے آگے کی طرف بڑھی ہے بلکہ کئی نئے اور اچھے لکھنے والوں نے بھی اردو بلاگنگ کی شروعات کردی ہیں۔ اردو بلاگنگ کو ابتداء میں سیاسی بلاگنگ کا جو الزام سہنا پڑتا تھا اس کا اثر بھی اب بہت حد تک زائل ہوچکا ہے اور اب تقریباَ ہر موضوع پر اردو بلاگنگ باقاعدہ ہونے لگی ہے۔ مثال کے طور پر تیکنیکی، ادبی، سیاسی، سماجی، مزاح سے بھرپور موضوعاتی اردو بلاگز نہ صرف موجود ہیں بلکہ بہت فعال بھی ہیں۔

اردو بلاگنگ کی ترقی میں اردو ٹیک کا  بڑا ہاتھ ہے اور نئے لکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد اردو ٹیک کی بدولت ہی بلاگنگ کی طرف آئی ہے۔ اردو ٹیک اور اردو محفل کو ایک طرح سے اردو بلاگنگ کی ریڑھ ہڈی کہہ سکتے ہیں۔

حال ہی میں اردو بلاگرز نے کراچی میں بلاگرز کی ایک کانفرنس میں اردو بلاگنگ کی نمائندگی کی جس کی تفصیل ابن ضیاء کے بلاگ پر موجود ہے۔ پھر ابو شامل نامی بلاگر نے بھی جسارت میں شائع ہونے والے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی جس میں اردو بلاگنگ کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اتنے اہم اور اردو بلاگز کی تشہیر کے نادر موقع پر اردو ٹیک پر موجود تمام بلاگز کا یکایک منظر عام سے غائب ہوجانا اردو بلاگنگ کے لیے ایک دھچکہ ہے اور غالبا اس سے پہلی دفعہ اردو بلاگز پر آنے والے قارئین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔

تجزیہ۔
ورڈ پریس جیسی آسان اور سادہ ایپلیکشن کی موجودگی میں کئی اردو بلاگز کا یوں منظر عام سے غائب ہوجانا پاک فیکٹ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق انتہائی درجے کی نا اہلی ہے۔ اردو بلاگز کا سیٹ اپ اب کسی صورت راکٹ سائنس سے مماثلت نہیں رکھتا اور کئی دن گزر جانے کے باوجود تمام بلاگز کا منظر عام سے غائب رہنا انتہائی مایوس کن اور اردو بلاگرز کی سستی اور تکنیکی اعتبار سے نااہلی کا مظہر ہے۔

اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008 ۔
اردو ٹیک کے تمام بلاگز ابھی تک آف لائن ہیں اور اس سلسلے میں ایک دو یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی

16 آراء دي گئيں

1 ڈفر بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 5:53 am

آپ کی تجزئے کی بے شک اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس موقع پر اردو ٹیک کا ڈاؤن ہونا کافی مایوس کن ہے لیکن آپ یہ بھی دیکھیں کہ اردو بلاگرز کی تعداد کتنی ہے اور وہ سب کتنے ٹیکنیکل ہیں۔ کیونکہ وہ زیادہ ٹیکنیکل نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ اردو ٹیک نے سب بلاگرز کی ذمہ داری اپنے سر لی ہوئی ہے۔ اگر ہم ورڈپریس یا بلاگ سپاٹ سے اردو ٹیک کا موازنہ کریں تو اردوٹیک کو ایڈمنسٹر کرنے والے لوگ کافی کم ہیں اور اردوٹیک کو صرف اپنے ریسورسز سے مینج کر رہے ہیں۔ اور جہاں تک بات ہے راکٹ سائنس کی تو آپکی اردو بلاگز سے محبت آپکے غصے سے پتا چلتی ہے :) لیکن اردو ٹیک کے جلدی اپ نا ہونے کی وجہ کسی طرح بھی اردوٹیک کی نا اہلی پر دلالت نہیں‌کرتا۔ اردو ٹیک کو درپیش مسائل کی مزید تفصیلات آپکو اس پوسٹ سے مل سکتی ہیں
http://www.badtamiz.com/blog/2008/12/13/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d9%b9%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d9%b9-%d9%86%db%8c%d9%b9-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b2/

2 نعمان بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 6:09 am

میں امید کرتا ہوں اردو ٹیک کے منتظمین خود ہی صفائی پیش کریں گے۔ لیکن اہم موقعے پر بلاگز کا غائب ہوجانا ایک اتفاقی حادثہ ہے۔ ہاں بلاگز کے واپس آنلائن آنے میں ہونے والی تاخیر مایوس کن رہی ہے۔

3 عمیر خان جدون بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 6:21 am

Google Translate اگر اردو ترجمہ کے لئے بھئ بن جائے تو کافی آسانیاں پیدا ہو جاٰئین۔ Google Translate ہندی زبان کے لئے موجود یے مگر افسوس اردو کے لیئے نہں

4 محمد وارث بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 10:40 am

آپ کی ابتدائی باتیں بلاشبہ ٹھیک ہیں، اردو بلاگرز کی تعداد اور تنوع میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ اردو ٹیک کی تشہیر کے بعد شاید چند قارئین کو اسکے بند ہونے کی وجہ سے ضرور کوفت ہوئی ہوگی اور یقیناً مختلف سرچ انجنز سے تشریف لانے والے قارئین کو بھی ہوئی ہوگی۔
لیکن اردو ٹیک کے ایڈمن صاحب ‘بدتمیز’ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ جلد ہی حل ہو جائے گا، اور میں بھی منتظرین میں ہوں کہ میرا بلاگ بھی اردو ٹیک پر ہی ہے!

5 عبدالقدوس بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 11:01 am

800 سے زائد ایم بی کا ڈیٹا بیس کیسے ریسٹور ہوگا؟

6 نبیل بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 11:18 am

السلام علیکم،
آپ غالباً کافی سخت الفاظ استعمال کر گئی ہیں۔
ورڈپریس کافی آسان اپلیکیشن ضرور ہے لیکن اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ کے بلاگ ورڈپریس ملٹی یوزر ایڈیشن پر تھے۔ ورڈپریس ملٹی یوزر ایڈیشن شیئرڈ ہوسٹنگ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ سائٹ کا ڈاؤن ہونا اردو بلاگنگ کے لیے ایک دھچکا ضرور ہے لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اردو بلاگرز کی بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسی ناخوشگوار صورتحال پیش نہ آئے۔

7 Pak Fact بتاريخ: Sunday، 14 December 2008 بوقت: 3:15 pm

اگر بلاگرز کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ ورڈ پریس چلانا اور مائی سیکوئل کا کچھ ڈیٹا بیس ریسٹور کرنا بہت پیچیدہ کام ہے تو ہم اپنا تجزیہ واپس لیتے ہیں۔ لیکن اردو بلاگرز کے ساتھ یہ سانحہ پہلی دفعہ پیش نہیں آیا اس لیے یہ پریشان کن بات ہے کہ ایک ہی چیز بار بار وقوع پذیر ہورہی ہے اور اس کے بچاؤ کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہورہا۔

8 عبدالقدوس بتاريخ: Monday، 15 December 2008 بوقت: 12:42 am

میرے خیال سے آپ نے تجزیہ میں‌غیرجانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ کچھ زیادہ ہی تنقید کر دی ہے
محترمہ یہ کام مشکل نہیں کہا جاسکتا توکم از کم پیچدہ ضرور کہا جاسکتا ہے کبھی فیڈز میں 100 سے زائد کی اجازت دیکر دیکھئے گا 80 فیصد سرورز مر جاتے ہیں صرف 100 کرنے پر ہی۔ اردو ٹیک ایک بہترین ذریعہ ہے لیکن موجودہ دور میں یاں تو ان کو کوئی عطیہ کا نظام متعارف کروانا پڑے گا یا پھر خود کی جیب کو اسقدر ڈھیلا کرنا پڑےگا کہ ماہانہ کم از کم 100 ڈالر تک برداشت کرسکیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ mu یعنی ملٹی انسٹال کو شئیرڈ ہوسٹنگ پرچلانا خطرناک بھی ہے کیونکہ جب آپ سرور کا 2 فیصد سے زائد استعمال شروع کردیں گے ہوسٹنگ کمپنی کو غش پر جائے گا اور استعمال کنندہ کا آپریشن ہو جائے گا

9 Pak Fact بتاريخ: Monday، 15 December 2008 بوقت: 1:00 am

آپ کی وضاحت کا شکریہ۔ ہم نے اپنے پچھلے تبصرے میں‌ تجزیہ کی وضاحت کردی تھی۔

فیڈز میں‌100 اور 200 کا مسئلہ عام قاری کا نہیں‌ ہوتا، اسے آپ کے بلاگ کے آن لائن ہونے سے مقصد ہے اس کی پیچیدگیاں‌ اور باریکیوں‌ کا قاری سے کچھ تعلق نہیں‌ ہوتا اور اس بلاگ پوسٹ‌کا مقصد صرف اسی طرف توجہ دلانا مقصود تھا اور ہماری ابھی بھی یہی رائے ہے کہ آن لائن بلاگز چند گھنٹوں سے زیادہ کے لیے غائب رہنے کا نقصان اردو بلاگنگ اور خاص‌کر اُس بلاگ کو اٹھانا پڑتا ہے۔

نوٹ: بلاگ کا یہ مضمون محترمہ کا نہیں‌ ہے، محترم کا ہے۔ پاک فیکٹ پر ایک سے زیادہ بلاگرز مضامین لکھتے ہیں۔

10 ڈفر بتاريخ: Tuesday، 16 December 2008 بوقت: 2:57 am

میں بھی کہوں اتنی تکنیکی باتوں کا محترمہ سے کیا تعلق ;)

11 عبدالقدوس بتاريخ: Tuesday، 16 December 2008 بوقت: 10:25 am

ہاہاہاہا ڈفر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 راشد کامران بتاريخ: Tuesday، 16 December 2008 بوقت: 5:30 pm

یعنی ڈفر بھائی یہاں تو باقاعدہ سیکسزم چل رہا ہے ۔۔ بس دعا کریں کوئی ہیلری کلنٹن کو آپ کا یہ تبصرہ فارورڈ نہ کردے ;)

13 ڈفر بتاريخ: Thursday، 18 December 2008 بوقت: 12:43 am

توبہ توبہ راشد صاحب کتنا معیوب انگریزی لفظ استعمال کر دیا آپ نے اتنی تکنیکی اور شریفانہ گفتگو میں۔ میں سیکسزم کی نہیں ہیلری کی بات کر رہا ہوں:D

14 TariqRaheel بتاريخ: Monday، 11 May 2009 بوقت: 1:45 pm

میں زیادہ نہیں جانتا بلاگنگ کے بارے میں

15 منتظمین بتاريخ: Tuesday، 2 June 2009 بوقت: 4:29 am

ویسے حیرت کی بات ہے کہ جب یہ کانفرنس ہو رہی تھی تو اس وقت بھی ورڈپریس۔پی کی پر کم از کم 100 سے زائڈ بلاگز موجود تھے۔ لیکن کسی کو بھی اتنی توفیق نہ تھی کہ ورڈ پریس۔پی کے کے ناظم “عبدالقدوس” کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا جاتا۔
جب کانفرنسوں کا یہ حال ہو گا تو پھر ترقی کیسی اور کس طرح کی؟

16 Pak Fact بتاريخ: Thursday، 10 September 2009 بوقت: 3:07 pm

منتظمین۔ اس کانفرنس کا باقاعدہ دعوت نامہ فرداَ‌ فرداَ نہیں‌ بھیجا گیا تھا بلکہ عام اعلان کے ذریعے دعوت عام دی گئی تھی اس صورت حال میں یہ کہنا کے کسی خاص شخص کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا ایک بے بنیاد بات ہے۔ جو بلاگر اس وقت کراچی میں موجود تھے انہوں نے اس میں شرکت کی اور کئی دوسرے شہروں سے بھی غالبا بلاگرز کانفرنس میں موجود ہوں گے۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو