‘غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت - روزنامہ جرات کی تعصب انگیز ‘خبر

جہاںسنسنی خیزی اور’نیوز بریکنگ’ پاکستانی صحافتی کلچر کا حصہ بن چکا ہے وہاں چند اداروں کی پالیسیاں  بھی نام نہاد خبروں کی صورت میں نظر آتی ہیں جو کہ پیشہ وارانہ صحافت کے ساتھ سنگین مزاق ہے. یہ بات درست ہے کہ صحافت خلا میں رہ کر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہر خبرکا فی النفسہی غیر جانبدارانہ ہونا ممکن ہے لیکن  سیاسی جانبداری کی اس دنیا میں بنیادی صحافتی اقدار کی پامالی کی مثال روزنامہ جرات کی 11 نومبر کی شائع کردہ مندرجہ زیل ‘خبر’ سے ظاہر ہوتی ہے.

اس ‘خبر’  کے بے بنیاد ہونے کے لیے نا صرف اس کے جملہ الفاظ کافی ہیں بلکہ اس میں حوالہ جات کا فقدان اور عدم  پڑتالی ذرائع (unverifiable sources) کا استعمال سونے پر سہاگے کے مصداق ہے. تعصباتی عینک پہن کر لکھی گئی اس خبر میں نہ تو کسی ادارے یا ‘منی چینجرآرگنازیشن کی مثال دی گئی ہے بلکہ ٹیلیفون پر جس رازونیاز کی بات کی جا رہی ہے، اس تک رسائی کے ذرائع بھی نہیں بتاے جا رہے جو کہ یقینا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے. پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق ، مندرجہ بالا خبر صحافتی معیار سے حد درجہ گر کر تحریر کی گئی ہے اور کسی موقر جریدے میں جو صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہو، اس کی اشاعت ناممکنات میں شمار ہوگی. اس خبر کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے.

2 آراء دي گئيں

1 ڈفر بتاريخ: Tuesday، 2 December 2008 بوقت: 11:18 am

بالکل صحیح لکھا
میں نے یہ پوسٹ کراچی میٹرو بلاگز پر پڑھی تھی
اور اس پوسٹ کے مطابق کافی سارے اے ٹی ایمز کے باہر یہ شر انگیز پروپیگنڈے سے لبریز خبر کا پوسٹر چسپاں ہے

2 ابوشامل بتاريخ: Friday، 5 December 2008 بوقت: 1:13 am

مجھے تو روزنامہ جرات کو “موقر” کہے اور “صحافتی اصولوں کی پاسداری” والا اخبار کہنے پر شدید اعتراضات ہیں۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو