پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان.- ایک تنقیدی جائزہ

پاکستانی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کا ‘کمرشلزم ‘ ہمیشہ سے عروج پر رہا ہے جس میں پچھلے کئی سالوں سے مزید تیزی آ رہی ہے. اس بڑھتے ہوے غیر صحتمندانہ رجحان  کی وجہ سے صحافت کی بنیاد جو کہ عوام الناس کو معیاری اور غیر جانبدارانہ خبریں مہیا کرنا ہے، نظریہ ضرورت کی نذر ہوتی جا رہی ہے جہاں ضرورت کے معنی اخبارات کے صفحات کا اشتہارات سے پیٹ بھرنا ٹہرا. اسی ضمن میں صفحات کی ‘بھرتی ‘ کے لیے خبروں کے بجاے بیانات اور ‘پریس ریلیزوں’ کا سہارا بھی صحافتی اقدار کو منہ چڑاتا ہے.
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق یہ رجحان نا صرف اردو بلکہ انگریزی جریدوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوے ہے جہاں آدھے یا چوتھای صفحے کا اشتہار، لوح یا پچھلے صفحے پر معمولی بات سمجا جاتا ہے. پریس ریلیزیز اور بیانات پر انحصار درحقیقت ‘فیلڈ ورک’ یا تحقیقی کام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جس میں اخبارات ،صحافتی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معاونت کے بجاے ڈیسک رپورٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں. مندرجہ زیل الواح ان رجحانات کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں
Jang Frontpage Express Newspaper Dawn Frontpage

اب اس کا موازنہ ‘ مغربی مرعوبیت’ کی مہر کے بغیر چند دیگر ذرائع ابلاغ سے کیا جائے تو نتیجہ سامنے ہے

Los Angeles Times Front Page New York Times

پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق عمومی طور پر پاکستانی اردو اخبارات کی الواح اور اہم صفحات پر 65 سے 70 فیصد ‘خبریں’ پریس ریلیز اور بیانات پر مبنی ہوتی ہیں. یہ تعداد پاکستانی انگریزی اخبارات میں گھٹ کر 40-50 فیصد رہ جاتی ہے. اشتہارات خبروں کی جگہ کا 40 سے 50 فیصد حصہ لے لیتے ہیں جو کہ کسی بھی معیاری جریدےکے لیے لمحہ فکریہ ہے جسکو قاری یا مشتہر کے درمیان اپنی ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے. خصوصی اشتہاری ضمیمہ ہرمغربی اور معیاری مشرقی اخبار نکالتا ہے اور اس سےصفحات بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سودا عدم خبریت اور قاری سے دھوکہ دہی کی صورت میں نہیں کیا جاتا. مزید برآں معیاری  فیلڈ رپورٹنگ کو ڈیسک رپورٹنگ اور پریس ریلیزوں اور بیانات پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے. پاک فیکٹ امید کرتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس معیار کے حصول کی کوشش کریں گے.

اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔
بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’  میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔

8 آراء دي گئيں

1 منصور بتاريخ: Sunday، 30 November 2008 بوقت: 2:19 pm

السلام و علکیم۔۔

آپ نے بہت ہی اچھے مسئلے کی طرف قلم اٹھایا ہے۔۔ کسی بھی اخبار کو اٹھا کے دیکھ لیں زیادہ تر آپکو اشتہارات ہی پڑھنے کو ملیں گے۔۔۔۔ اور اگر اشتہارات نہیں تو اشتہاری پارٹیاں اشتہار دینے کے لالچ میں اپنے بیانات یا ایسی کی خبریں لگوا دیتے ہیں‌جو ایک قاری کے لیے کسی فائدہ سے کم نہیں۔۔۔
رہی سہی کسر نیوز ایجنسیوں نے نکال دی جو ایک قسم کی خبریں سب اخبارات کو پھینک دیتے ہیں جس سے رپورٹنگ کا شعبہ بہت کم ہوتا جا رہا ہے اور ڈیسک کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔۔۔
اس کا صحیح حل تو یہ ہے کہ اگر اشتہار لگانے ہیں تو پچھلے یا اندر کے صفحات پر لگاہیں۔۔
پہلے صفحہ پر وزیر اعظم حکومتی شخصیات کو ترجیح دیں لیکن اتنی بھی نہیں‌کہ عوامی مسائل نظر انداز ہو جائیں۔۔۔

2 ساجداقبال بتاريخ: Monday، 1 December 2008 بوقت: 12:16 am

رہی سہی کثر ”سنڈتے“ میگزینوں میں نکل جاتی ہیں جہاں یہ تناسب بعض اوقات 8:2 کا ہوا جاتا ہے۔

3 دوست بتاريخ: Monday، 1 December 2008 بوقت: 2:54 am

اس بلاگ کو اردو سیارہ اور اردو ٹیک وینس پر رجسٹر کروائیں جناب تاکہ اس بارے میں قارئین آگاہ رہ سکیں۔ ہم اسے پڑھنا چاہتے ہیں لیکن بلاگ ایگریگیٹر پر آسانی ہوجائے گی۔
http://www.urduweb.org/planet/?
http://www.urdutech.net/venus/

4 ڈفر بتاريخ: Monday، 1 December 2008 بوقت: 3:21 am

بالکل صحیح لکھا
اور جو میگزینز کا حال ہے، توبہ توبہ
ہومیو پیتھ کی دوائیوں، فیجوں ، کیمروں، یونانی دواؤں اور پتا نہیں کا کیا
30 صفحوں میں 20 پر اشتہارات

5 Pak Fact بتاريخ: Monday، 1 December 2008 بوقت: 12:40 pm

آپ حضرات کے تبصروں کا شکریہ۔
دوست صاحب۔ ہم نے دونوں ہی فراہم کردہ لنکس پر شمولیت کی عرضی ڈال رکھی ہے دیکھیں کب باری آتی ہے۔

6 ابوشامل بتاريخ: Tuesday، 2 December 2008 بوقت: 12:18 am

آپ نے اخباروں کے حوالے سے ایک بہت اہم مسئلے کی جانب نشاندہی کی ہے۔
میرے خیال میں سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخبارات یا تو کاروباری شخصیات کی ملکیت ہیں یا ان صحافیوں کی،جو کاروباری بن گئے ہیں۔ اب ان کا بنیادی مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے۔
آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ صفحہ اول پر اشتہار دینے اور دیگر صفحات پر اشتہار چھپوانے کے لیے قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس لیے صفحہ اول کی حیثیت کو “کیش” کرایا جاتا ہے اور اس پر خوب پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ ایک اشتہار چوتھائی کے چوتھائی صفحے کا، لاکھوں روپے کا ہوتا ہے۔

آپ کا بلاگ بہت اعلٰی ہے۔ تجزیے بہت خوب ہوتے ہیں۔ مجھے کہیں زیادہ مسرت ہوگي اگر یہ بلاگ مستقل بنیادوں پر جاری رہے اور اپنی کئی سالگرہیں منائے۔

7 منظر نامہ » Blog Archive » نومبر 2008 کے بلاگ بتاريخ: Saturday، 6 December 2008 بوقت: 11:58 am

[...] پاک فیکٹ حال ہی میں سامنے والا ایک معیاری اور اپنی نوعیت کا منفرد ﴿شاید پہلا﴾ بلاگ ہے جس میں میڈیا پر آنے والی خبروں، کالم اور ان سے متعلقہ امور پر تنقید، تبصرے اور معیاری تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں خبریت کا فقدان کس قدر ہے اور کس طرح اشتہارات سے خانہ پری کی جاتی ہے، اس کا اندازہ پاک فیکٹ کی ایک مختصر مگر جامع تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان ہے: پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان- ایک تنقیدی جائ

8 نومبر 2008 کے بلاگ بتاريخ: Saturday، 10 January 2009 بوقت: 6:15 pm

[...] پاک فیکٹ حال ہی میں سامنے والا ایک معیاری اور اپنی نوعیت کا منفرد ﴿شاید پہلا﴾ بلاگ ہے جس میں میڈیا پر آنے والی خبروں، کالم اور ان سے متعلقہ امور پر تنقید، تبصرے اور معیاری تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں خبریت کا فقدان کس قدر ہے اور کس طرح اشتہارات سے خانہ پری کی جاتی ہے، اس کا اندازہ پاک فیکٹ کی ایک مختصر مگر جامع تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان ہے: پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان- ایک تنقیدی…۔ [...]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو