تحارير برائے زمرہ: 'انگریزی بلاگز' ...

پاکستانی میڈیا میں بلاگنگ کی زبوں حالی۔

بلاگنگ کی بنیادی تعریف کی رو سے بلاگنگ دراصل ذاتی یا شخصی خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ مانی جاتی ہے اور کم و بیش اسی تعریف کے مطابق دنیا بھر میں لا تعداد بلاگز روزانہ کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں۔ مختلف ادراوں خاص طور پر اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے بلاگز پر بھی عموماَشخصی اظہاریے ہی پیش کیے جاتے ہیں جس میں قارئین کی رائے اور تبصروں کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے اور یہ صورت حال کسی خاص زبان اور خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔

اپنے پچھلے مضمون میں پاک فیکٹ نے پاکستانی میڈیا میں فیلڈ ورک کے فقدان پر روشنی ڈالی تھی اسی ضمن میں اگر آپ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد اور خبر رساں اداروں سے پاکستانی اداروں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اول تو کئی اداروں نے ابھی تک اپنے برقی جریدوں میں بلاگز کا شعبہ شروع ہی نہیں کیا اور جن ادراوں نے بلاگز کی شروعات کی ہیں انہوں نے بلاگز کی بنیادی تعریف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی خاص خبر یا واقعہ پر عوامی رائے کے سلسلے کو بلاگ کا نام دے رکھا ہے۔

پاک فیکٹ نے اپنی ریسرچ کے سلسے میں مندرجہ ذیل برقی جریدوں اور خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس میں بلاگنگ کا میعار جانچنے کی کوشش کی تو نتائج کچھ اسطرح حاصل ہوئے۔

جنگ گروپ آف نیوز پییپرز
جنگ اردو بلاگ
جنگ انگریزی بلاگ
دونوں بلاگز میں کسی خبر یا واقعے پر عوامی رد عمل کو بلاگز کا نام دیا گیا ہے سب سے منفرد صورت حال یہ ہے کہ بلاگر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے یعنی ادارے کی طرف سے خانہ پری کی ایک کوشش ہے حالانکہ جنگ کے پاس لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنے والے عوامی پرکھ سے گزرنے کی اہلیت یا ہمت نہیں رکھتے۔ پاک فیکٹ نے متعدد بار اخبار کے اظہاریہ نویسوں کو مبہم یا غلط معلومات فراہم کرنے پر وضاحت کے لیے ای میلز لکھے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈان اخبار
ڈان اخبار انگریزی زبان کا متعبر نام مانا جاتا ہے اور بین الاقوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے حوالے سے ڈان کے نامہ نگاروں کے انٹرویوز نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ڈان اخبار کی موجودہ اور بیٹا ورژن موجود نئی ویب سائٹ میں بلاگنگ کے حوالے سے کوئی شعبہ موجود نہیں۔ ڈان اخبار کا بلاگنگ سے اس طرح صرف نظر نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

آج ٹی وی
آج ٹی وی کی نیوز ویب سائٹ میں‌ بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز ٹی وی
سائٹ کئی مہینوں سے تکمیل کے مراحل میں ہے

اے آر وائی ون ورلڈ
بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امت، جسارت اور دوسرے چھوٹے بڑے آن لائن اخبارات میں میعاری بلاگنگ کا فقدان ہے۔

اسی پس منظرمیں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ بڑے اداروں خصوصا اردو اخبارات میں ٹیکنالوجی کا میعار انتہائی پست ہے۔ اب جبکہ ورڈ پریس اور جوملہ جیسے اوپن سورس پراجیکٹ موجود ہیں پست میعار کی ویب سائٹس جو نہ صرف یہ کہ اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے کرسمس ٹری معلوم ہوتی ہیں بلکہ کسی طرح کا بھی بہتر یوزر انٹرفیس فراہم کرنے سے بھی معذور ہیں مثال کے طور پر جنگ گروپ کی ویب سائٹس کے چند صفحات کا جائزہ لینے سے ہی چار سے پانچ براؤزر ونڈوز کھل جاتی ہیں جو انتہائی برا میعار مانا جاتا ہے۔

تجزیہ
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستانی بلاگرز انتہائی میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور اکثراوقات اخباری خبروں کے شائع ہونے سے پیشتر ہی بلاگز پر واقعات کا مکمل احاطہ کرلیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی خبر رساں ایجنسیز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کا میعاری بلاگنگ نہ فراہم کرنا انتہائی افسوس ناک اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف سے عدم توجہی کا مظہر ہے۔

نوٹ
پاک فیکٹ کا یہ مضمون نیک نیتی پر مبنی ہے اور کسی قسم کی تنقید برائے تنقید مقصود نہیں۔ میعاری اردو بلاگنگ کا فروغ ہمارا نصب العین ہے اور مضمون میں کسی بھی سقم کی نشاندہی کے لیے تبصرے کی مکمل آزادی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ قارئین تک پہنچائیں اور ریفرنس کے ساتھ فراہم کردہ تصیح یا معلومات فوری طور پر بلاگ میں اپ ڈیٹ کردی جاتی ہیں۔

مصطفٰی کمال۔ دنیا کے دوسرے بہترین میئر؟ خبریں، بلاگز اور حقیقت۔

نومبر 10 ، 2008 جنگ کراچی، انگریزی اخبار ڈان اور ایکسپریس کراچی میں فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے یہ انکشاف پڑھ کر کراچی کے شہریوں کو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ کراچی کے میئر کو دنیا کا دوسرا بہترین میئر قرار دیا گیا ہے۔

اگلے روز روزنامہ جنگ میں نامور کالم نگار حسن نثار نے اس بات کو اپنے کالم کا موضوع بنا کر باقاعدہ فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے مصطفی کمال کا تذکرہ کیا۔

اسی دن اور اس کے آس پاس اردو اور انگریزی بلاگرز نے صورتحال کا تجزیہ کیا اور یہ انکشاف کیا کہ فارن پالیسی میگزین میں شائع شدہ رپورٹ کا میئرز کی عالمی درجہ بندی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی خبروں اور کالموں میں کیے گئے کسی دعوے کی تصدیق فارن پالیسی میگزین کی رپورٹ کے مطابق ہوسکی۔ شعیب صفدر، بدتمیز اور نعمان نامی اردو بلاگرز نے اس پر اپنے خیالات اور حقائق بیان کیے۔ پی کے پالیٹیکس نامی انگریزی بلاگ میں بھی فارن پالیسی میگیزین کو کی گئی اور موصول شدہ جواب کے ای میل کا عکس شائع کیا گیا جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایسی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔ اور آخر کار فارن پالیسی میگزین کو باقاعدہ تردید جاری کرنی پڑی کہ انہوں نے ایسی کوئی درجہ بندی نہیں‌کی ہے۔ فارن پالیسی کے تردیدی بیان میں سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ کا لنک بھی دیا گیا ہے جہاں غلطی کا احساس دلانے کے باوجود معمولی ردوبدل کے ساتھ ابھی تک یہ خبر موجود ہے حالانکہ شہر کو درجہ 57 نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود دو دن گزرنے کے بعد جنگ کراچی میں پھر نومبر 12، 2008 کو اسی سلسلے میں خبر شائع ہوئی جس میں ایم کیو ایم کے قائد کا میئر کے نام تہنیتی پیغام درج ہے نائب میئر کے مبارکبادی پیغامات بھی شامل ہیں۔

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات اور کالم نگار مجرمانہ درجے کی غفلت اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں جبکہ بلاگرز نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں چند گھنٹوں کا وقت لیا ہے۔ پاک فیکٹ کے مطابق ان خبروں کو عدم توجہی، مجرمانہ غفلت اور کالم کو سنگین غفلت اور قصیدہ گوئی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔

اپڈیٹ 1۔ نومبر 17، 2008
تمام حقائق منظر عام پر آنے کے باوجود ابھی تک ٹی وی اور اخبارات میں انہیں خبروں کا چرچا ہے۔ نومبر 17 ، 2008 جنگ کراچی کے صفحہ 2 پر ابھی تک اس سلسے کی خبریں موجود ہیں۔ نومبر 17، 2008 ڈان کراچی صفحہ نمبر 13 پر تہنیتی اشتہار چھاپا گیا ہے۔ تبصروں میں روسی شہری کے تبصرے میں‌ امت اخبار کے لنک پر ایک اخبار کی جانب سے حقیقت کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈٰیا دانستہ طور پر اس حقیقت سے پردہ پوشی کررہا ہے۔

اپ ڈیٹ 2۔ نومبر 21، 2008
جنگ کراچی نومبر 21، 2008 صفحہ نمبر 2۔ ابھی تک اس خبر کے چرچے ہیں اور میئر کو دنیا کے تین بہترین میئرز میں شامل کیا جارہا ہے۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے باوجود اخبارات غلط خبر کی پردہ پوشی میں مصروف ہیں.