تحارير برائے زمرہ: 'اردو بلاگز' ...
Saturday، 13 December 2008 — اردو بلاگز
اردو بلاگنگ ابتداء سے ہی بے انتہا مسائل کا شکار رہی ہے اور اب تک ایسی توجہ نہ حاصل کرسکی جس کی وہ بلاشبہ مستحق ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں صورت حال میں نہایت مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ صرف یہ کہ اردو بلاگنگ تیزی سے آگے کی طرف بڑھی ہے بلکہ کئی نئے اور اچھے لکھنے والوں نے بھی اردو بلاگنگ کی شروعات کردی ہیں۔ اردو بلاگنگ کو ابتداء میں سیاسی بلاگنگ کا جو الزام سہنا پڑتا تھا اس کا اثر بھی اب بہت حد تک زائل ہوچکا ہے اور اب تقریباَ ہر موضوع پر اردو بلاگنگ باقاعدہ ہونے لگی ہے۔ مثال کے طور پر تیکنیکی، ادبی، سیاسی، سماجی، مزاح سے بھرپور موضوعاتی اردو بلاگز نہ صرف موجود ہیں بلکہ بہت فعال بھی ہیں۔
اردو بلاگنگ کی ترقی میں اردو ٹیک کا بڑا ہاتھ ہے اور نئے لکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد اردو ٹیک کی بدولت ہی بلاگنگ کی طرف آئی ہے۔ اردو ٹیک اور اردو محفل کو ایک طرح سے اردو بلاگنگ کی ریڑھ ہڈی کہہ سکتے ہیں۔
حال ہی میں اردو بلاگرز نے کراچی میں بلاگرز کی ایک کانفرنس میں اردو بلاگنگ کی نمائندگی کی جس کی تفصیل ابن ضیاء کے بلاگ پر موجود ہے۔ پھر ابو شامل نامی بلاگر نے بھی جسارت میں شائع ہونے والے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی جس میں اردو بلاگنگ کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اتنے اہم اور اردو بلاگز کی تشہیر کے نادر موقع پر اردو ٹیک پر موجود تمام بلاگز کا یکایک منظر عام سے غائب ہوجانا اردو بلاگنگ کے لیے ایک دھچکہ ہے اور غالبا اس سے پہلی دفعہ اردو بلاگز پر آنے والے قارئین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔
تجزیہ۔
ورڈ پریس جیسی آسان اور سادہ ایپلیکشن کی موجودگی میں کئی اردو بلاگز کا یوں منظر عام سے غائب ہوجانا پاک فیکٹ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق انتہائی درجے کی نا اہلی ہے۔ اردو بلاگز کا سیٹ اپ اب کسی صورت راکٹ سائنس سے مماثلت نہیں رکھتا اور کئی دن گزر جانے کے باوجود تمام بلاگز کا منظر عام سے غائب رہنا انتہائی مایوس کن اور اردو بلاگرز کی سستی اور تکنیکی اعتبار سے نااہلی کا مظہر ہے۔
اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008 ۔
اردو ٹیک کے تمام بلاگز ابھی تک آف لائن ہیں اور اس سلسلے میں ایک دو یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی
16 آراء
Tuesday، 2 December 2008 — اردو بلاگز ، انگریزی بلاگز ، مقامی اخبار ، ٹی وی نیوز
بلاگنگ کی بنیادی تعریف کی رو سے بلاگنگ دراصل ذاتی یا شخصی خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ مانی جاتی ہے اور کم و بیش اسی تعریف کے مطابق دنیا بھر میں لا تعداد بلاگز روزانہ کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں۔ مختلف ادراوں خاص طور پر اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے بلاگز پر بھی عموماَشخصی اظہاریے ہی پیش کیے جاتے ہیں جس میں قارئین کی رائے اور تبصروں کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے اور یہ صورت حال کسی خاص زبان اور خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔
اپنے پچھلے مضمون میں پاک فیکٹ نے پاکستانی میڈیا میں فیلڈ ورک کے فقدان پر روشنی ڈالی تھی اسی ضمن میں اگر آپ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد اور خبر رساں اداروں سے پاکستانی اداروں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اول تو کئی اداروں نے ابھی تک اپنے برقی جریدوں میں بلاگز کا شعبہ شروع ہی نہیں کیا اور جن ادراوں نے بلاگز کی شروعات کی ہیں انہوں نے بلاگز کی بنیادی تعریف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی خاص خبر یا واقعہ پر عوامی رائے کے سلسلے کو بلاگ کا نام دے رکھا ہے۔
پاک فیکٹ نے اپنی ریسرچ کے سلسے میں مندرجہ ذیل برقی جریدوں اور خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس میں بلاگنگ کا میعار جانچنے کی کوشش کی تو نتائج کچھ اسطرح حاصل ہوئے۔
جنگ گروپ آف نیوز پییپرز
1۔ جنگ اردو بلاگ
2۔ جنگ انگریزی بلاگ
دونوں بلاگز میں کسی خبر یا واقعے پر عوامی رد عمل کو بلاگز کا نام دیا گیا ہے سب سے منفرد صورت حال یہ ہے کہ بلاگر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے یعنی ادارے کی طرف سے خانہ پری کی ایک کوشش ہے حالانکہ جنگ کے پاس لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنے والے عوامی پرکھ سے گزرنے کی اہلیت یا ہمت نہیں رکھتے۔ پاک فیکٹ نے متعدد بار اخبار کے اظہاریہ نویسوں کو مبہم یا غلط معلومات فراہم کرنے پر وضاحت کے لیے ای میلز لکھے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ڈان اخبار
ڈان اخبار انگریزی زبان کا متعبر نام مانا جاتا ہے اور بین الاقوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے حوالے سے ڈان کے نامہ نگاروں کے انٹرویوز نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ڈان اخبار کی موجودہ اور بیٹا ورژن موجود نئی ویب سائٹ میں بلاگنگ کے حوالے سے کوئی شعبہ موجود نہیں۔ ڈان اخبار کا بلاگنگ سے اس طرح صرف نظر نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
آج ٹی وی
آج ٹی وی کی نیوز ویب سائٹ میں بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔
ایکسپریس نیوز ٹی وی
سائٹ کئی مہینوں سے تکمیل کے مراحل میں ہے
اے آر وائی ون ورلڈ
بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ امت، جسارت اور دوسرے چھوٹے بڑے آن لائن اخبارات میں میعاری بلاگنگ کا فقدان ہے۔
اسی پس منظرمیں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ بڑے اداروں خصوصا اردو اخبارات میں ٹیکنالوجی کا میعار انتہائی پست ہے۔ اب جبکہ ورڈ پریس اور جوملہ جیسے اوپن سورس پراجیکٹ موجود ہیں پست میعار کی ویب سائٹس جو نہ صرف یہ کہ اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے کرسمس ٹری معلوم ہوتی ہیں بلکہ کسی طرح کا بھی بہتر یوزر انٹرفیس فراہم کرنے سے بھی معذور ہیں مثال کے طور پر جنگ گروپ کی ویب سائٹس کے چند صفحات کا جائزہ لینے سے ہی چار سے پانچ براؤزر ونڈوز کھل جاتی ہیں جو انتہائی برا میعار مانا جاتا ہے۔
تجزیہ
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستانی بلاگرز انتہائی میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور اکثراوقات اخباری خبروں کے شائع ہونے سے پیشتر ہی بلاگز پر واقعات کا مکمل احاطہ کرلیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی خبر رساں ایجنسیز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کا میعاری بلاگنگ نہ فراہم کرنا انتہائی افسوس ناک اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف سے عدم توجہی کا مظہر ہے۔
نوٹ
پاک فیکٹ کا یہ مضمون نیک نیتی پر مبنی ہے اور کسی قسم کی تنقید برائے تنقید مقصود نہیں۔ میعاری اردو بلاگنگ کا فروغ ہمارا نصب العین ہے اور مضمون میں کسی بھی سقم کی نشاندہی کے لیے تبصرے کی مکمل آزادی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ قارئین تک پہنچائیں اور ریفرنس کے ساتھ فراہم کردہ تصیح یا معلومات فوری طور پر بلاگ میں اپ ڈیٹ کردی جاتی ہیں۔
5 آراء
Tuesday، 18 November 2008 — اردو بلاگز ، خبریں ، کالمز
قارئین کے علم میں یہ بات ہوگی کہ بیشترپاکستانی انگریزی اور اردو اخبارات انٹرنیٹ اور دیگراخباری ذرائع سے حاصل کی گی خبروں اور کالموں کو بلا کسی حوالے یا انتہای مختصریک حرفی استعارے کے ساتھ اپنا بنا کر چھاپ دیتے ہیں جو کہ صحافتی اور علمی اصولوں کے علاوہ عمومی اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے اور چوری یا علمی سرقہ کے زمرے میں آتا ہے. اس کی ایک تازہ مثال بی بی سی اردو کے کالم نگار وسعت اللہ خان صاحب کا 18 نومبر کا مضمون “بس میرا نام نہ آئے” ہے جو کہ روزنامہ جسارت نے اپنی 19 نومبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع کیا ہے. ستم ظریفی یہ کہ یہ مضمون بذات خود “آزادی صحافت” کی اس صنف کی جانب اشارہ کرتا ہے جہاں پر ‘انٹرنیٹ صحافی حضرات’ علمی سرقے کے مرتکب ہوتے ہیں اور بعد ازاں ان چوری کی گیء خبروں کو ‘آن لائن نیوز’، ‘انٹرنیٹ ڈیسک’ یا اس صورت میں جسارت نیوز کے نام سے چھاپ دیا جاتا ہے. وسعت اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں
“متعدد اخبارات و چینلز کسی بھی ویب سائٹ یا نشریاتی چینل سے مواد ، مضامین اور کالم لے اڑتے ہیں اور پھر انہیں بغیر حوالے کے اس طرح سے شائع یا نشر کرتے ہیں جیسے یہ خالصتاً ان کی کاوش ہو۔شاید سرقے، چوری اور اشاعتی حقوق کی پامالی کو بھی آزادی صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے

اور غالبا ان کے یہ الفاظ درست ثابت کرنے کی کاوش میں روزنامہ جسارت نے وہی کیا جس کا اس کالم میں ذ کر کیا گیا ہے.

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات مجرمانہ درجے کے علمی سرقہ میں ملوث اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور یہ کاپی رایٹ قوانین کی صریحا خلاف ورزی اورعام قاری سے دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے. کالم کو علمی سرقہ، سنگین غفلت اور کاپی رائٹ قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔
:حوالہ جات
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081118_geo_secret_rza.shtml
http://www.jasarat.com/2008/11/19/mm/01.jpg
5 آراء
Thursday، 13 November 2008 — اردو بلاگز ، انگریزی بلاگز ، بین الاقوامی میڈیا ، خبریں ، ٹی وی نیوز ، کالمز
نومبر 10 ، 2008 جنگ کراچی، انگریزی اخبار ڈان اور ایکسپریس کراچی میں فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے یہ انکشاف پڑھ کر کراچی کے شہریوں کو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ کراچی کے میئر کو دنیا کا دوسرا بہترین میئر قرار دیا گیا ہے۔


اگلے روز روزنامہ جنگ میں نامور کالم نگار حسن نثار نے اس بات کو اپنے کالم کا موضوع بنا کر باقاعدہ فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے مصطفی کمال کا تذکرہ کیا۔

اسی دن اور اس کے آس پاس اردو اور انگریزی بلاگرز نے صورتحال کا تجزیہ کیا اور یہ انکشاف کیا کہ فارن پالیسی میگزین میں شائع شدہ رپورٹ کا میئرز کی عالمی درجہ بندی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی خبروں اور کالموں میں کیے گئے کسی دعوے کی تصدیق فارن پالیسی میگزین کی رپورٹ کے مطابق ہوسکی۔ شعیب صفدر، بدتمیز اور نعمان نامی اردو بلاگرز نے اس پر اپنے خیالات اور حقائق بیان کیے۔ پی کے پالیٹیکس نامی انگریزی بلاگ میں بھی فارن پالیسی میگیزین کو کی گئی اور موصول شدہ جواب کے ای میل کا عکس شائع کیا گیا جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایسی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔ اور آخر کار فارن پالیسی میگزین کو باقاعدہ تردید جاری کرنی پڑی کہ انہوں نے ایسی کوئی درجہ بندی نہیںکی ہے۔ فارن پالیسی کے تردیدی بیان میں سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ کا لنک بھی دیا گیا ہے جہاں غلطی کا احساس دلانے کے باوجود معمولی ردوبدل کے ساتھ ابھی تک یہ خبر موجود ہے حالانکہ شہر کو درجہ 57 نمبر پر رکھا گیا ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود دو دن گزرنے کے بعد جنگ کراچی میں پھر نومبر 12، 2008 کو اسی سلسلے میں خبر شائع ہوئی جس میں ایم کیو ایم کے قائد کا میئر کے نام تہنیتی پیغام درج ہے نائب میئر کے مبارکبادی پیغامات بھی شامل ہیں۔

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات اور کالم نگار مجرمانہ درجے کی غفلت اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں جبکہ بلاگرز نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں چند گھنٹوں کا وقت لیا ہے۔ پاک فیکٹ کے مطابق ان خبروں کو عدم توجہی، مجرمانہ غفلت اور کالم کو سنگین غفلت اور قصیدہ گوئی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔
اپڈیٹ 1۔ نومبر 17، 2008
تمام حقائق منظر عام پر آنے کے باوجود ابھی تک ٹی وی اور اخبارات میں انہیں خبروں کا چرچا ہے۔ نومبر 17 ، 2008 جنگ کراچی کے صفحہ 2 پر ابھی تک اس سلسے کی خبریں موجود ہیں۔ نومبر 17، 2008 ڈان کراچی صفحہ نمبر 13 پر تہنیتی اشتہار چھاپا گیا ہے۔ تبصروں میں روسی شہری کے تبصرے میں امت اخبار کے لنک پر ایک اخبار کی جانب سے حقیقت کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈٰیا دانستہ طور پر اس حقیقت سے پردہ پوشی کررہا ہے۔
اپ ڈیٹ 2۔ نومبر 21، 2008
جنگ کراچی نومبر 21، 2008 صفحہ نمبر 2۔ ابھی تک اس خبر کے چرچے ہیں اور میئر کو دنیا کے تین بہترین میئرز میں شامل کیا جارہا ہے۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے باوجود اخبارات غلط خبر کی پردہ پوشی میں مصروف ہیں.

6 آراء