تحارير برائے زمرہ: 'خبریں' ...
Saturday، 20 December 2008 — بین الاقوامی میڈیا ، خبریں
ہم جنس شادیوں کا مسئلہ امریکہ میں ہمیشہ سے سیاستدانوں کے لیے درد سر رہا ہے اور اپنی اپنی الیکشن مہمات کے دوران انہیں اس حوالے سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے دوران جہاں امریکی ووٹروں نے صدارت کے لیے ووٹ ڈالے وہیں ریاست کیلیفورنیا میں ہم جنس شادیوں پر پابندی پر ریفرنڈم بھی ہوا تھا جسے ریاست کے ووٹروں نے منظور کیا اور ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کردی۔ اس پورے قصے کو بین الاقوامی میڈیا میں زبردست کوریج دی گئی۔ براک اوبامہ کی صدارت سنبھالنے کی تقریب کے دعائیہ کلمات کے لیے رک وارن کا انتخاب اس پورے قصے میں ایک نیا موڑ ہے۔ رک وارن سیڈل بیک چرچ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے پروپ آٹھ کی منظوری کے لیے خطیر رقم فراہم کی اسی وجہ سے بائیں بازوں کی طرف جھکاؤ رکھنے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں یہ انتخاب اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا۔
بی بی سی اردو کو آن لائن اردو خبروں کے لیے اہم ماخذ مانا جاتا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بی بی سی اردو اپنی خبروں کا میعار برقرار نہیں رکھ پارہا ہے اور بعض او قات اس طرح کی غلطیاں بی بی سی اردو میں دیکھنے میں آرہی ہیں جو سرسری ایڈٹنگ میں ہی دور ہو جانی چاہییں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا میں ہم جنسوں کی شادی کے مسئلے پر بی بی سی نے ایک چھوٹی سی خبر لگائی ہے لیکن اس چھوٹی سی خبر میں تین اہم غلطیاں ہیں۔
سان فرانسسکو امریکی ریاست نہیں ہے بلکہ ریاست کیلیفورنیا کا ایک بڑا شہر ہے۔
ہم جنس شادیوں کی اجازت سب سے پہلے ریاست میساچوسٹس نے دی نہ کے کیلیفورنیا نے۔
پروپ آٹھ کی منظوری کا تناسب باون اعشاریہ تین فیصد ہے نہ کہ باون اعشاریہ ایک فیصد۔ کیونکہ یہ اتنا سخت مقابلہ ہے کہ اس میں اعشاریہ دو فیصد کا فرق پورے قانون میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
ریفرنسز۔
http://vote.sos.ca.gov/Returns/props/map190000000008.htm
http://www.chicagotribune.com/news/columnists/chi-oped1221pagedec21,0,5205139.column
http://www.cnn.com/2008/US/06/16/feyerick.samesex.marriage/index.html
http://en.wikipedia.org/wiki/Massachusetts
تجزیہ۔
ایک بڑے ادارے کے لیے خاص طور پر جب کہ اردو پڑھنے والے کئی لوگ آن لائن خبروں کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں بین الاقوامی حالات و واقعات میں اس طرح کی غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک عام اردو قاری اگر اس خبر سے جغرافیائی اور سیاسی حوالے حاصل کرے تو اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاک فیکٹ کے کئی بلاگرز کا عام مشاہدہ ہے کہ امریکی شہروں اور ریاستوں کے فرق کو اردو میڈیا میں ملحوظ نہیں رکھا جاتا اور ایک بڑی تعداد شکاگو، لاس اینجلس، نیویارک سٹی، فلیڈیلفیا اور سان فرانسسکو جیسے بڑے شہروں کو ریاست کہہ دیتے ہیں۔ پاک فیکٹ کے مطابق خانہ پری کے لیے لکھا گیا یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور بی بی سی کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی کا ثبوت۔
7 آراء
Thursday، 18 December 2008 — خبریں ، مقامی اخبار
ملکی سلامتی کے معاملات اور حساس موضوعات پر آزاد سے آزاد ملکوں کا میڈیابھی کچھ نہ کچھ جانبداری دکھاتا ہے اور سو فیصد غیر جانبداری نا ممکن نہیں تو ایک مشکل امر ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت میڈیا کی اپنے اپنے ملکوں سے جانبداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور دونوں ہی ممالک کے میڈیا میں آنے والی خبریں حقیقت سے اتنی دور ہوتی ہیںکہ کشمیریوں کی اصل آواز سننے کے لیے آپ کو لامحالہ بیرونی ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی اخبارات و جرائد کے مطابق انتخابات مکمل مسترد کردیے گئے تو بھاری میڈیا کے مطابق ٹرن آؤٹ 66 فیصد تھا اور یہ بات عام لوگوں کے علم میں ہے کہ دونوں ہی دعوے حقیقت کے ترجمان نہیں۔
کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن کہیںبہتر ہوتا ہے، اس تصویر کو دیکھیے اور اس پر دیے گئے کیپشن کو دیکھیے۔
تجزیہ:
اس تصویر کا تجزیہ پاک فیکٹ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہے۔
3 آراء
Tuesday، 2 December 2008 — خبریں ، مقامی اخبار
جہاںسنسنی خیزی اور’نیوز بریکنگ’ پاکستانی صحافتی کلچر کا حصہ بن چکا ہے وہاں چند اداروں کی پالیسیاں بھی نام نہاد خبروں کی صورت میں نظر آتی ہیں جو کہ پیشہ وارانہ صحافت کے ساتھ سنگین مزاق ہے. یہ بات درست ہے کہ صحافت خلا میں رہ کر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہر خبرکا فی النفسہی غیر جانبدارانہ ہونا ممکن ہے لیکن سیاسی جانبداری کی اس دنیا میں بنیادی صحافتی اقدار کی پامالی کی مثال روزنامہ جرات کی 11 نومبر کی شائع کردہ مندرجہ زیل ‘خبر’ سے ظاہر ہوتی ہے.

اس ‘خبر’ کے بے بنیاد ہونے کے لیے نا صرف اس کے جملہ الفاظ کافی ہیں بلکہ اس میں حوالہ جات کا فقدان اور عدم پڑتالی ذرائع (unverifiable sources) کا استعمال سونے پر سہاگے کے مصداق ہے. تعصباتی عینک پہن کر لکھی گئی اس خبر میں نہ تو کسی ادارے یا ‘منی چینجرآرگنازیشن کی مثال دی گئی ہے بلکہ ٹیلیفون پر جس رازونیاز کی بات کی جا رہی ہے، اس تک رسائی کے ذرائع بھی نہیں بتاے جا رہے جو کہ یقینا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے. پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق ، مندرجہ بالا خبر صحافتی معیار سے حد درجہ گر کر تحریر کی گئی ہے اور کسی موقر جریدے میں جو صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہو، اس کی اشاعت ناممکنات میں شمار ہوگی. اس خبر کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے.
2 آراء
Saturday، 29 November 2008 — بین الاقوامی میڈیا ، خبریں ، مقامی اخبار
پاکستانی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کا ‘کمرشلزم ‘ ہمیشہ سے عروج پر رہا ہے جس میں پچھلے کئی سالوں سے مزید تیزی آ رہی ہے. اس بڑھتے ہوے غیر صحتمندانہ رجحان کی وجہ سے صحافت کی بنیاد جو کہ عوام الناس کو معیاری اور غیر جانبدارانہ خبریں مہیا کرنا ہے، نظریہ ضرورت کی نذر ہوتی جا رہی ہے جہاں ضرورت کے معنی اخبارات کے صفحات کا اشتہارات سے پیٹ بھرنا ٹہرا. اسی ضمن میں صفحات کی ‘بھرتی ‘ کے لیے خبروں کے بجاے بیانات اور ‘پریس ریلیزوں’ کا سہارا بھی صحافتی اقدار کو منہ چڑاتا ہے.
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق یہ رجحان نا صرف اردو بلکہ انگریزی جریدوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوے ہے جہاں آدھے یا چوتھای صفحے کا اشتہار، لوح یا پچھلے صفحے پر معمولی بات سمجا جاتا ہے. پریس ریلیزیز اور بیانات پر انحصار درحقیقت ‘فیلڈ ورک’ یا تحقیقی کام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جس میں اخبارات ،صحافتی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معاونت کے بجاے ڈیسک رپورٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں. مندرجہ زیل الواح ان رجحانات کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں
اب اس کا موازنہ ‘ مغربی مرعوبیت’ کی مہر کے بغیر چند دیگر ذرائع ابلاغ سے کیا جائے تو نتیجہ سامنے ہے
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق عمومی طور پر پاکستانی اردو اخبارات کی الواح اور اہم صفحات پر 65 سے 70 فیصد ‘خبریں’ پریس ریلیز اور بیانات پر مبنی ہوتی ہیں. یہ تعداد پاکستانی انگریزی اخبارات میں گھٹ کر 40-50 فیصد رہ جاتی ہے. اشتہارات خبروں کی جگہ کا 40 سے 50 فیصد حصہ لے لیتے ہیں جو کہ کسی بھی معیاری جریدےکے لیے لمحہ فکریہ ہے جسکو قاری یا مشتہر کے درمیان اپنی ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے. خصوصی اشتہاری ضمیمہ ہرمغربی اور معیاری مشرقی اخبار نکالتا ہے اور اس سےصفحات بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سودا عدم خبریت اور قاری سے دھوکہ دہی کی صورت میں نہیں کیا جاتا. مزید برآں معیاری فیلڈ رپورٹنگ کو ڈیسک رپورٹنگ اور پریس ریلیزوں اور بیانات پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے. پاک فیکٹ امید کرتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس معیار کے حصول کی کوشش کریں گے.
اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔
بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’ میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔
8 آراء
Thursday، 20 November 2008 — بین الاقوامی میڈیا ، خبریں
بی بی سی اردو کے بین الاقوامی صفحے پر جنوبی کوریائی کمپنی ڈائیوو کے متعلق خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ کمپنی نے افریقی ملک مڈگاسکر کی پچاس فیصد زمین یعنی آدھا ملک لیز یا پٹہ پر حاصل کر لیا ہے۔ خبر بذات خود اچنبھے کا باعث ہے اور ایک صحافی کے لیے ناقابل یقین۔ بلاگر قدیر احمد نے اس لنک کو اپنے بلاگ میں شائع کیا اور فوراَ ہی زیک نامی مبصر نے اس کی تصیح کر دی کہ دراصل حاصل کی گئی زمین پورے ملک کے مکمل رقبے کا صرف 2 فیصد ہے نہ کہ پچاس فیصد۔

پاک فیکٹ نے قارئین کے لیے مکمل اعدادو شمار اکھٹے کیے ہیں اور ایک اور پہلو سے انتہائی درجے کی غفلت کا جائزہ لیا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ڈائیوو کی لیز کردہ کل زمین تین اعشاریہ دو ملین ایکڑ ہے جس کو سادہ ضرب تقسیم کی مدد سے مربع کلو میٹر میں تبدیل کیا جائے تو 12949 مربع کلو میٹر بنتے ہیں۔ مڈگاسکر کا کل رقبہ 587041 مربع کلو میٹر ہے یعنی حاصل کی گئی زمین صرف اور صرف دو اعشاریہ دو فیصد ہے۔
سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی بی سی کی ورلڈ سروس یا انگریزی ورژن میں خبر کو اسطرح پیش نہیں کیا گیا لیکن اعدادو شمار میں پھر بھی فرق نظر آتا ہے جس سے مختلف زبانوں کے لیے ایک ہی ادارے کی طرف سے مختلف میعارات کا شائبہ ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اردو سیکشن میں بین الاقوامی خبروں میں اسے سر فہرست دکھایا گیا ہے جبکہ فارسی اور عربی کے بین الاقوامی سیکشن میں اُسی وقت اس خبر کا کوئی تذکرہ نہیں اور نہ ہی انگریزی ورژن میں اسے شہ سرخی کا درجہ دیا گیا ہے۔





تجزیہ
پاک فیکٹ کے مطابق بی بی سی جیسے بڑے ادارے سے اسطرح کی خبروں کی اشاعت سنگین درجے کی غفلت اور مختلف زبانوں کی خبروں کے دوہرے میعارات کا مظہر ہے۔ گو کہ اس خبر کا اثر بہت محدود ہے لیکن ملکی سطح کے کسی بڑے واقعے میں ایسی غفلت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
References:
Bloomberg News
http://en.wikipedia.org/wiki/Madagascar
http://www.metric-conversions.org/area/acres-to-square-kilometers.htm
اپ ڈیٹ 1، نومبر 29، 2008۔
پاک فیکٹ نے بی بی سی اردو کو اس خبر سے متعلق وضاحت کے لیے رابطہ کیا، تاحال کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا ہے اور خبر ویب سائٹ پر موجود ہے۔
2 آراء
Tuesday، 18 November 2008 — اردو بلاگز ، خبریں ، کالمز
قارئین کے علم میں یہ بات ہوگی کہ بیشترپاکستانی انگریزی اور اردو اخبارات انٹرنیٹ اور دیگراخباری ذرائع سے حاصل کی گی خبروں اور کالموں کو بلا کسی حوالے یا انتہای مختصریک حرفی استعارے کے ساتھ اپنا بنا کر چھاپ دیتے ہیں جو کہ صحافتی اور علمی اصولوں کے علاوہ عمومی اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے اور چوری یا علمی سرقہ کے زمرے میں آتا ہے. اس کی ایک تازہ مثال بی بی سی اردو کے کالم نگار وسعت اللہ خان صاحب کا 18 نومبر کا مضمون “بس میرا نام نہ آئے” ہے جو کہ روزنامہ جسارت نے اپنی 19 نومبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع کیا ہے. ستم ظریفی یہ کہ یہ مضمون بذات خود “آزادی صحافت” کی اس صنف کی جانب اشارہ کرتا ہے جہاں پر ‘انٹرنیٹ صحافی حضرات’ علمی سرقے کے مرتکب ہوتے ہیں اور بعد ازاں ان چوری کی گیء خبروں کو ‘آن لائن نیوز’، ‘انٹرنیٹ ڈیسک’ یا اس صورت میں جسارت نیوز کے نام سے چھاپ دیا جاتا ہے. وسعت اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں
“متعدد اخبارات و چینلز کسی بھی ویب سائٹ یا نشریاتی چینل سے مواد ، مضامین اور کالم لے اڑتے ہیں اور پھر انہیں بغیر حوالے کے اس طرح سے شائع یا نشر کرتے ہیں جیسے یہ خالصتاً ان کی کاوش ہو۔شاید سرقے، چوری اور اشاعتی حقوق کی پامالی کو بھی آزادی صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے

اور غالبا ان کے یہ الفاظ درست ثابت کرنے کی کاوش میں روزنامہ جسارت نے وہی کیا جس کا اس کالم میں ذ کر کیا گیا ہے.

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات مجرمانہ درجے کے علمی سرقہ میں ملوث اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور یہ کاپی رایٹ قوانین کی صریحا خلاف ورزی اورعام قاری سے دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے. کالم کو علمی سرقہ، سنگین غفلت اور کاپی رائٹ قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔
:حوالہ جات
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081118_geo_secret_rza.shtml
http://www.jasarat.com/2008/11/19/mm/01.jpg
5 آراء
Thursday، 13 November 2008 — اردو بلاگز ، انگریزی بلاگز ، بین الاقوامی میڈیا ، خبریں ، ٹی وی نیوز ، کالمز
نومبر 10 ، 2008 جنگ کراچی، انگریزی اخبار ڈان اور ایکسپریس کراچی میں فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے یہ انکشاف پڑھ کر کراچی کے شہریوں کو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ کراچی کے میئر کو دنیا کا دوسرا بہترین میئر قرار دیا گیا ہے۔


اگلے روز روزنامہ جنگ میں نامور کالم نگار حسن نثار نے اس بات کو اپنے کالم کا موضوع بنا کر باقاعدہ فارن پالیسی میگزین کے حوالے سے مصطفی کمال کا تذکرہ کیا۔

اسی دن اور اس کے آس پاس اردو اور انگریزی بلاگرز نے صورتحال کا تجزیہ کیا اور یہ انکشاف کیا کہ فارن پالیسی میگزین میں شائع شدہ رپورٹ کا میئرز کی عالمی درجہ بندی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی خبروں اور کالموں میں کیے گئے کسی دعوے کی تصدیق فارن پالیسی میگزین کی رپورٹ کے مطابق ہوسکی۔ شعیب صفدر، بدتمیز اور نعمان نامی اردو بلاگرز نے اس پر اپنے خیالات اور حقائق بیان کیے۔ پی کے پالیٹیکس نامی انگریزی بلاگ میں بھی فارن پالیسی میگیزین کو کی گئی اور موصول شدہ جواب کے ای میل کا عکس شائع کیا گیا جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایسی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔ اور آخر کار فارن پالیسی میگزین کو باقاعدہ تردید جاری کرنی پڑی کہ انہوں نے ایسی کوئی درجہ بندی نہیںکی ہے۔ فارن پالیسی کے تردیدی بیان میں سٹی گورنمنٹ کی ویب سائٹ کا لنک بھی دیا گیا ہے جہاں غلطی کا احساس دلانے کے باوجود معمولی ردوبدل کے ساتھ ابھی تک یہ خبر موجود ہے حالانکہ شہر کو درجہ 57 نمبر پر رکھا گیا ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود دو دن گزرنے کے بعد جنگ کراچی میں پھر نومبر 12، 2008 کو اسی سلسلے میں خبر شائع ہوئی جس میں ایم کیو ایم کے قائد کا میئر کے نام تہنیتی پیغام درج ہے نائب میئر کے مبارکبادی پیغامات بھی شامل ہیں۔

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات اور کالم نگار مجرمانہ درجے کی غفلت اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں جبکہ بلاگرز نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں چند گھنٹوں کا وقت لیا ہے۔ پاک فیکٹ کے مطابق ان خبروں کو عدم توجہی، مجرمانہ غفلت اور کالم کو سنگین غفلت اور قصیدہ گوئی کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔
اپڈیٹ 1۔ نومبر 17، 2008
تمام حقائق منظر عام پر آنے کے باوجود ابھی تک ٹی وی اور اخبارات میں انہیں خبروں کا چرچا ہے۔ نومبر 17 ، 2008 جنگ کراچی کے صفحہ 2 پر ابھی تک اس سلسے کی خبریں موجود ہیں۔ نومبر 17، 2008 ڈان کراچی صفحہ نمبر 13 پر تہنیتی اشتہار چھاپا گیا ہے۔ تبصروں میں روسی شہری کے تبصرے میں امت اخبار کے لنک پر ایک اخبار کی جانب سے حقیقت کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈٰیا دانستہ طور پر اس حقیقت سے پردہ پوشی کررہا ہے۔
اپ ڈیٹ 2۔ نومبر 21، 2008
جنگ کراچی نومبر 21، 2008 صفحہ نمبر 2۔ ابھی تک اس خبر کے چرچے ہیں اور میئر کو دنیا کے تین بہترین میئرز میں شامل کیا جارہا ہے۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے باوجود اخبارات غلط خبر کی پردہ پوشی میں مصروف ہیں.

6 آراء