اردو کے ‘موقر’ جریدے، روزنامہ جنگ کا ایک اور خبری سرقہ۔ کسی حوالے کے بغیر ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے سہیل حلیم کی کالم کی نقل
آصل خبر
سہیل حلیم۔، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/08/090828_advani_jinnah.shtml
Saturday، 29 August 2009 — بین الاقوامی میڈیا ، مقامی اخبار
اردو کے ‘موقر’ جریدے، روزنامہ جنگ کا ایک اور خبری سرقہ۔ کسی حوالے کے بغیر ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے سہیل حلیم کی کالم کی نقل
آصل خبر
سہیل حلیم۔، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/08/090828_advani_jinnah.shtml
Monday، 5 January 2009 — بین الاقوامی میڈیا ، مقامی اخبار
روزنامہ جسارت کی اتوار 28 دسمبر کی اشاعت میں موجودہ درج ذیل خبر جو غزہ حملوں اور سی این این میں اس کی رپورٹنگ کی عدم موجودگی کے بارے میں ہے سراسر بے بنیاد اور غیر ضروری پراپیگنڈہ رپورٹنگ کا شاہکار ہے.
| From PakFact Blog |
سی این این اوردیگرمغربی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کو نا صرف اپنے ویب سایٹ کے صفحہ اول پر جگہ دی ہے بلکہ اپنی براڈکاسٹ میں بھی اس کو سر فہرست رکھا ہے۔ اس بات میں بلاشبہ دو رائے موجود ہیں کہ خبریں جانبدار ہیں یا غیر جانبدار لیکن ان کی موجودگی بلکہ ہمہ وقت موجودگی سے انکار اخبار کے قارئین سے کھلا دھوکا ہے۔
| From PakFact Blog |
| From PakFact Blog |
تجزیہ۔
پاک فیکٹ کے مطابق یہ محض پراپیگنڈہ رپورٹنگ ہے اور یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور جسارت کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی یا دانستہ صرف نظر کا ثبوت۔
نوٹ:
غزہ کی صورت حال اور اس منظر میں پیش کی جانے والی رپورٹس کی جانبداری اور غیر جانبداری اس پوسٹ کا بنیادی موضوع نہیں ہے اور نہ ہی اس میں سی این این یا دوسرے بین الاقوامی میڈیا کے کردار کو موضوع بنایاگیا ہے اس سلسلے میں دوسری بحث رکھی جاسکتی ہے۔
Thursday، 18 December 2008 — خبریں ، مقامی اخبار
ملکی سلامتی کے معاملات اور حساس موضوعات پر آزاد سے آزاد ملکوں کا میڈیابھی کچھ نہ کچھ جانبداری دکھاتا ہے اور سو فیصد غیر جانبداری نا ممکن نہیں تو ایک مشکل امر ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت میڈیا کی اپنے اپنے ملکوں سے جانبداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور دونوں ہی ممالک کے میڈیا میں آنے والی خبریں حقیقت سے اتنی دور ہوتی ہیںکہ کشمیریوں کی اصل آواز سننے کے لیے آپ کو لامحالہ بیرونی ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی اخبارات و جرائد کے مطابق انتخابات مکمل مسترد کردیے گئے تو بھاری میڈیا کے مطابق ٹرن آؤٹ 66 فیصد تھا اور یہ بات عام لوگوں کے علم میں ہے کہ دونوں ہی دعوے حقیقت کے ترجمان نہیں۔
کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن کہیںبہتر ہوتا ہے، اس تصویر کو دیکھیے اور اس پر دیے گئے کیپشن کو دیکھیے۔
![]() |
| From PakFact Blog |
تجزیہ:
اس تصویر کا تجزیہ پاک فیکٹ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہے۔
Tuesday، 2 December 2008 — خبریں ، مقامی اخبار
جہاںسنسنی خیزی اور’نیوز بریکنگ’ پاکستانی صحافتی کلچر کا حصہ بن چکا ہے وہاں چند اداروں کی پالیسیاں بھی نام نہاد خبروں کی صورت میں نظر آتی ہیں جو کہ پیشہ وارانہ صحافت کے ساتھ سنگین مزاق ہے. یہ بات درست ہے کہ صحافت خلا میں رہ کر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہر خبرکا فی النفسہی غیر جانبدارانہ ہونا ممکن ہے لیکن سیاسی جانبداری کی اس دنیا میں بنیادی صحافتی اقدار کی پامالی کی مثال روزنامہ جرات کی 11 نومبر کی شائع کردہ مندرجہ زیل ‘خبر’ سے ظاہر ہوتی ہے.
اس ‘خبر’ کے بے بنیاد ہونے کے لیے نا صرف اس کے جملہ الفاظ کافی ہیں بلکہ اس میں حوالہ جات کا فقدان اور عدم پڑتالی ذرائع (unverifiable sources) کا استعمال سونے پر سہاگے کے مصداق ہے. تعصباتی عینک پہن کر لکھی گئی اس خبر میں نہ تو کسی ادارے یا ‘منی چینجرآرگنازیشن کی مثال دی گئی ہے بلکہ ٹیلیفون پر جس رازونیاز کی بات کی جا رہی ہے، اس تک رسائی کے ذرائع بھی نہیں بتاے جا رہے جو کہ یقینا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے. پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق ، مندرجہ بالا خبر صحافتی معیار سے حد درجہ گر کر تحریر کی گئی ہے اور کسی موقر جریدے میں جو صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہو، اس کی اشاعت ناممکنات میں شمار ہوگی. اس خبر کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے.
Tuesday، 2 December 2008 — اردو بلاگز ، انگریزی بلاگز ، مقامی اخبار ، ٹی وی نیوز
بلاگنگ کی بنیادی تعریف کی رو سے بلاگنگ دراصل ذاتی یا شخصی خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ مانی جاتی ہے اور کم و بیش اسی تعریف کے مطابق دنیا بھر میں لا تعداد بلاگز روزانہ کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں۔ مختلف ادراوں خاص طور پر اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے بلاگز پر بھی عموماَشخصی اظہاریے ہی پیش کیے جاتے ہیں جس میں قارئین کی رائے اور تبصروں کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے اور یہ صورت حال کسی خاص زبان اور خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔
اپنے پچھلے مضمون میں پاک فیکٹ نے پاکستانی میڈیا میں فیلڈ ورک کے فقدان پر روشنی ڈالی تھی اسی ضمن میں اگر آپ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد اور خبر رساں اداروں سے پاکستانی اداروں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اول تو کئی اداروں نے ابھی تک اپنے برقی جریدوں میں بلاگز کا شعبہ شروع ہی نہیں کیا اور جن ادراوں نے بلاگز کی شروعات کی ہیں انہوں نے بلاگز کی بنیادی تعریف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی خاص خبر یا واقعہ پر عوامی رائے کے سلسلے کو بلاگ کا نام دے رکھا ہے۔
پاک فیکٹ نے اپنی ریسرچ کے سلسے میں مندرجہ ذیل برقی جریدوں اور خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس میں بلاگنگ کا میعار جانچنے کی کوشش کی تو نتائج کچھ اسطرح حاصل ہوئے۔
جنگ گروپ آف نیوز پییپرز
1۔ جنگ اردو بلاگ
2۔ جنگ انگریزی بلاگ
دونوں بلاگز میں کسی خبر یا واقعے پر عوامی رد عمل کو بلاگز کا نام دیا گیا ہے سب سے منفرد صورت حال یہ ہے کہ بلاگر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے یعنی ادارے کی طرف سے خانہ پری کی ایک کوشش ہے حالانکہ جنگ کے پاس لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنے والے عوامی پرکھ سے گزرنے کی اہلیت یا ہمت نہیں رکھتے۔ پاک فیکٹ نے متعدد بار اخبار کے اظہاریہ نویسوں کو مبہم یا غلط معلومات فراہم کرنے پر وضاحت کے لیے ای میلز لکھے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ڈان اخبار
ڈان اخبار انگریزی زبان کا متعبر نام مانا جاتا ہے اور بین الاقوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے حوالے سے ڈان کے نامہ نگاروں کے انٹرویوز نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ڈان اخبار کی موجودہ اور بیٹا ورژن موجود نئی ویب سائٹ میں بلاگنگ کے حوالے سے کوئی شعبہ موجود نہیں۔ ڈان اخبار کا بلاگنگ سے اس طرح صرف نظر نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
آج ٹی وی
آج ٹی وی کی نیوز ویب سائٹ میں بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔
ایکسپریس نیوز ٹی وی
سائٹ کئی مہینوں سے تکمیل کے مراحل میں ہے
اے آر وائی ون ورلڈ
بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ امت، جسارت اور دوسرے چھوٹے بڑے آن لائن اخبارات میں میعاری بلاگنگ کا فقدان ہے۔
اسی پس منظرمیں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ بڑے اداروں خصوصا اردو اخبارات میں ٹیکنالوجی کا میعار انتہائی پست ہے۔ اب جبکہ ورڈ پریس اور جوملہ جیسے اوپن سورس پراجیکٹ موجود ہیں پست میعار کی ویب سائٹس جو نہ صرف یہ کہ اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے کرسمس ٹری معلوم ہوتی ہیں بلکہ کسی طرح کا بھی بہتر یوزر انٹرفیس فراہم کرنے سے بھی معذور ہیں مثال کے طور پر جنگ گروپ کی ویب سائٹس کے چند صفحات کا جائزہ لینے سے ہی چار سے پانچ براؤزر ونڈوز کھل جاتی ہیں جو انتہائی برا میعار مانا جاتا ہے۔
تجزیہ
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستانی بلاگرز انتہائی میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور اکثراوقات اخباری خبروں کے شائع ہونے سے پیشتر ہی بلاگز پر واقعات کا مکمل احاطہ کرلیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی خبر رساں ایجنسیز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کا میعاری بلاگنگ نہ فراہم کرنا انتہائی افسوس ناک اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف سے عدم توجہی کا مظہر ہے۔
نوٹ
پاک فیکٹ کا یہ مضمون نیک نیتی پر مبنی ہے اور کسی قسم کی تنقید برائے تنقید مقصود نہیں۔ میعاری اردو بلاگنگ کا فروغ ہمارا نصب العین ہے اور مضمون میں کسی بھی سقم کی نشاندہی کے لیے تبصرے کی مکمل آزادی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ قارئین تک پہنچائیں اور ریفرنس کے ساتھ فراہم کردہ تصیح یا معلومات فوری طور پر بلاگ میں اپ ڈیٹ کردی جاتی ہیں۔
Saturday، 29 November 2008 — بین الاقوامی میڈیا ، خبریں ، مقامی اخبار
![]() |
![]() |
![]() |
اب اس کا موازنہ ‘ مغربی مرعوبیت’ کی مہر کے بغیر چند دیگر ذرائع ابلاغ سے کیا جائے تو نتیجہ سامنے ہے
![]() |
![]() |
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق عمومی طور پر پاکستانی اردو اخبارات کی الواح اور اہم صفحات پر 65 سے 70 فیصد ‘خبریں’ پریس ریلیز اور بیانات پر مبنی ہوتی ہیں. یہ تعداد پاکستانی انگریزی اخبارات میں گھٹ کر 40-50 فیصد رہ جاتی ہے. اشتہارات خبروں کی جگہ کا 40 سے 50 فیصد حصہ لے لیتے ہیں جو کہ کسی بھی معیاری جریدےکے لیے لمحہ فکریہ ہے جسکو قاری یا مشتہر کے درمیان اپنی ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے. خصوصی اشتہاری ضمیمہ ہرمغربی اور معیاری مشرقی اخبار نکالتا ہے اور اس سےصفحات بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سودا عدم خبریت اور قاری سے دھوکہ دہی کی صورت میں نہیں کیا جاتا. مزید برآں معیاری فیلڈ رپورٹنگ کو ڈیسک رپورٹنگ اور پریس ریلیزوں اور بیانات پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے. پاک فیکٹ امید کرتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس معیار کے حصول کی کوشش کریں گے.
اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔
بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’ میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔