تحارير برائے زمرہ: 'مقامی اخبار' ...

روزنامہ جنگ کا ایک اور سرقہ

اردو کے ‘موقر’ جریدے، روزنامہ جنگ کا ایک اور خبری سرقہ۔ کسی حوالے کے بغیر ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے سہیل حلیم کی کالم کی نقل

جنگ سرقہ

جنگ سرقہ

آصل خبر

سہیل حلیم۔، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/08/090828_advani_jinnah.shtml

روزنامہ جسارت کی پراپیگنڈہ رپورٹنگ - غزہ حملے اور سی این این پر غیر حقیقت پسندانہ الزام تراشی

روزنامہ جسارت کی اتوار 28 دسمبر کی اشاعت میں موجودہ درج ذیل  خبر جو غزہ حملوں اور سی این این میں اس کی رپورٹنگ کی عدم موجودگی کے بارے میں ہے سراسر بے بنیاد اور غیر ضروری پراپیگنڈہ رپورٹنگ کا شاہکار ہے.

From PakFact Blog

سی این این اوردیگرمغربی ذرائع ابلاغ  نے ان حملوں کو نا صرف اپنے ویب سایٹ کے صفحہ اول پر جگہ دی ہے بلکہ اپنی براڈکاسٹ میں بھی اس کو سر فہرست رکھا ہے۔ اس بات میں‌ بلاشبہ دو رائے موجود ہیں‌ کہ خبریں جانبدار ہیں یا غیر جانبدار لیکن ان کی موجودگی بلکہ ہمہ وقت موجودگی سے انکار اخبار کے قارئین سے کھلا دھوکا ہے۔

From PakFact Blog
From PakFact Blog

تجزیہ۔
پاک فیکٹ کے مطابق یہ محض  پراپیگنڈہ رپورٹنگ ہے اور یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور جسارت کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی یا دانستہ صرف نظر کا ثبوت۔

نوٹ:
غزہ کی صورت حال اور اس منظر میں پیش کی جانے والی رپورٹس کی جانبداری اور غیر جانبداری اس پوسٹ‌ کا بنیادی موضوع نہیں ہے اور نہ ہی اس میں‌ سی این این یا دوسرے بین الاقوامی میڈیا کے کردار کو موضوع بنایاگیا ہے اس سلسلے میں دوسری بحث رکھی جاسکتی ہے۔

کشمیر الیکشن کی بولتی تصویر

ملکی سلامتی کے معاملات اور حساس موضوعات پر آزاد سے آزاد ملکوں کا میڈیابھی کچھ نہ کچھ جانبداری دکھاتا ہے اور سو فیصد غیر جانبداری نا ممکن نہیں تو ایک مشکل امر ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت میڈیا کی اپنے اپنے ملکوں سے جانبداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور دونوں ہی ممالک کے میڈیا میں آنے والی خبریں‌ حقیقت سے اتنی دور ہوتی ہیں‌کہ کشمیریوں کی اصل آواز سننے کے لیے آپ کو لامحالہ بیرونی ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی اخبارات و جرائد کے مطابق انتخابات مکمل مسترد کردیے گئے تو بھاری میڈیا کے مطابق ٹرن آؤٹ 66 فیصد تھا اور یہ بات عام لوگوں کے علم میں‌ ہے کہ دونوں‌ ہی دعوے حقیقت کے ترجمان نہیں۔

کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن کہیں‌بہتر ہوتا ہے، اس تصویر کو دیکھیے اور اس پر دیے گئے کیپشن کو دیکھیے۔

From PakFact Blog

تجزیہ:
اس تصویر کا تجزیہ پاک فیکٹ‌ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہے۔

‘غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت - روزنامہ جرات کی تعصب انگیز ‘خبر

جہاںسنسنی خیزی اور’نیوز بریکنگ’ پاکستانی صحافتی کلچر کا حصہ بن چکا ہے وہاں چند اداروں کی پالیسیاں  بھی نام نہاد خبروں کی صورت میں نظر آتی ہیں جو کہ پیشہ وارانہ صحافت کے ساتھ سنگین مزاق ہے. یہ بات درست ہے کہ صحافت خلا میں رہ کر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہر خبرکا فی النفسہی غیر جانبدارانہ ہونا ممکن ہے لیکن  سیاسی جانبداری کی اس دنیا میں بنیادی صحافتی اقدار کی پامالی کی مثال روزنامہ جرات کی 11 نومبر کی شائع کردہ مندرجہ زیل ‘خبر’ سے ظاہر ہوتی ہے.

اس ‘خبر’  کے بے بنیاد ہونے کے لیے نا صرف اس کے جملہ الفاظ کافی ہیں بلکہ اس میں حوالہ جات کا فقدان اور عدم  پڑتالی ذرائع (unverifiable sources) کا استعمال سونے پر سہاگے کے مصداق ہے. تعصباتی عینک پہن کر لکھی گئی اس خبر میں نہ تو کسی ادارے یا ‘منی چینجرآرگنازیشن کی مثال دی گئی ہے بلکہ ٹیلیفون پر جس رازونیاز کی بات کی جا رہی ہے، اس تک رسائی کے ذرائع بھی نہیں بتاے جا رہے جو کہ یقینا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے. پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق ، مندرجہ بالا خبر صحافتی معیار سے حد درجہ گر کر تحریر کی گئی ہے اور کسی موقر جریدے میں جو صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہو، اس کی اشاعت ناممکنات میں شمار ہوگی. اس خبر کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے.

پاکستانی میڈیا میں بلاگنگ کی زبوں حالی۔

بلاگنگ کی بنیادی تعریف کی رو سے بلاگنگ دراصل ذاتی یا شخصی خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ مانی جاتی ہے اور کم و بیش اسی تعریف کے مطابق دنیا بھر میں لا تعداد بلاگز روزانہ کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں۔ مختلف ادراوں خاص طور پر اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے بلاگز پر بھی عموماَشخصی اظہاریے ہی پیش کیے جاتے ہیں جس میں قارئین کی رائے اور تبصروں کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے اور یہ صورت حال کسی خاص زبان اور خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔

اپنے پچھلے مضمون میں پاک فیکٹ نے پاکستانی میڈیا میں فیلڈ ورک کے فقدان پر روشنی ڈالی تھی اسی ضمن میں اگر آپ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد اور خبر رساں اداروں سے پاکستانی اداروں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اول تو کئی اداروں نے ابھی تک اپنے برقی جریدوں میں بلاگز کا شعبہ شروع ہی نہیں کیا اور جن ادراوں نے بلاگز کی شروعات کی ہیں انہوں نے بلاگز کی بنیادی تعریف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی خاص خبر یا واقعہ پر عوامی رائے کے سلسلے کو بلاگ کا نام دے رکھا ہے۔

پاک فیکٹ نے اپنی ریسرچ کے سلسے میں مندرجہ ذیل برقی جریدوں اور خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس میں بلاگنگ کا میعار جانچنے کی کوشش کی تو نتائج کچھ اسطرح حاصل ہوئے۔

جنگ گروپ آف نیوز پییپرز
جنگ اردو بلاگ
جنگ انگریزی بلاگ
دونوں بلاگز میں کسی خبر یا واقعے پر عوامی رد عمل کو بلاگز کا نام دیا گیا ہے سب سے منفرد صورت حال یہ ہے کہ بلاگر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے یعنی ادارے کی طرف سے خانہ پری کی ایک کوشش ہے حالانکہ جنگ کے پاس لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنے والے عوامی پرکھ سے گزرنے کی اہلیت یا ہمت نہیں رکھتے۔ پاک فیکٹ نے متعدد بار اخبار کے اظہاریہ نویسوں کو مبہم یا غلط معلومات فراہم کرنے پر وضاحت کے لیے ای میلز لکھے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈان اخبار
ڈان اخبار انگریزی زبان کا متعبر نام مانا جاتا ہے اور بین الاقوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے حوالے سے ڈان کے نامہ نگاروں کے انٹرویوز نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ڈان اخبار کی موجودہ اور بیٹا ورژن موجود نئی ویب سائٹ میں بلاگنگ کے حوالے سے کوئی شعبہ موجود نہیں۔ ڈان اخبار کا بلاگنگ سے اس طرح صرف نظر نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

آج ٹی وی
آج ٹی وی کی نیوز ویب سائٹ میں‌ بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز ٹی وی
سائٹ کئی مہینوں سے تکمیل کے مراحل میں ہے

اے آر وائی ون ورلڈ
بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امت، جسارت اور دوسرے چھوٹے بڑے آن لائن اخبارات میں میعاری بلاگنگ کا فقدان ہے۔

اسی پس منظرمیں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ بڑے اداروں خصوصا اردو اخبارات میں ٹیکنالوجی کا میعار انتہائی پست ہے۔ اب جبکہ ورڈ پریس اور جوملہ جیسے اوپن سورس پراجیکٹ موجود ہیں پست میعار کی ویب سائٹس جو نہ صرف یہ کہ اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے کرسمس ٹری معلوم ہوتی ہیں بلکہ کسی طرح کا بھی بہتر یوزر انٹرفیس فراہم کرنے سے بھی معذور ہیں مثال کے طور پر جنگ گروپ کی ویب سائٹس کے چند صفحات کا جائزہ لینے سے ہی چار سے پانچ براؤزر ونڈوز کھل جاتی ہیں جو انتہائی برا میعار مانا جاتا ہے۔

تجزیہ
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستانی بلاگرز انتہائی میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور اکثراوقات اخباری خبروں کے شائع ہونے سے پیشتر ہی بلاگز پر واقعات کا مکمل احاطہ کرلیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی خبر رساں ایجنسیز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کا میعاری بلاگنگ نہ فراہم کرنا انتہائی افسوس ناک اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف سے عدم توجہی کا مظہر ہے۔

نوٹ
پاک فیکٹ کا یہ مضمون نیک نیتی پر مبنی ہے اور کسی قسم کی تنقید برائے تنقید مقصود نہیں۔ میعاری اردو بلاگنگ کا فروغ ہمارا نصب العین ہے اور مضمون میں کسی بھی سقم کی نشاندہی کے لیے تبصرے کی مکمل آزادی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ قارئین تک پہنچائیں اور ریفرنس کے ساتھ فراہم کردہ تصیح یا معلومات فوری طور پر بلاگ میں اپ ڈیٹ کردی جاتی ہیں۔

پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان.- ایک تنقیدی جائزہ

پاکستانی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کا ‘کمرشلزم ‘ ہمیشہ سے عروج پر رہا ہے جس میں پچھلے کئی سالوں سے مزید تیزی آ رہی ہے. اس بڑھتے ہوے غیر صحتمندانہ رجحان  کی وجہ سے صحافت کی بنیاد جو کہ عوام الناس کو معیاری اور غیر جانبدارانہ خبریں مہیا کرنا ہے، نظریہ ضرورت کی نذر ہوتی جا رہی ہے جہاں ضرورت کے معنی اخبارات کے صفحات کا اشتہارات سے پیٹ بھرنا ٹہرا. اسی ضمن میں صفحات کی ‘بھرتی ‘ کے لیے خبروں کے بجاے بیانات اور ‘پریس ریلیزوں’ کا سہارا بھی صحافتی اقدار کو منہ چڑاتا ہے.
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق یہ رجحان نا صرف اردو بلکہ انگریزی جریدوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوے ہے جہاں آدھے یا چوتھای صفحے کا اشتہار، لوح یا پچھلے صفحے پر معمولی بات سمجا جاتا ہے. پریس ریلیزیز اور بیانات پر انحصار درحقیقت ‘فیلڈ ورک’ یا تحقیقی کام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جس میں اخبارات ،صحافتی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معاونت کے بجاے ڈیسک رپورٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں. مندرجہ زیل الواح ان رجحانات کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں
Jang Frontpage Express Newspaper Dawn Frontpage

اب اس کا موازنہ ‘ مغربی مرعوبیت’ کی مہر کے بغیر چند دیگر ذرائع ابلاغ سے کیا جائے تو نتیجہ سامنے ہے

Los Angeles Times Front Page New York Times

پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق عمومی طور پر پاکستانی اردو اخبارات کی الواح اور اہم صفحات پر 65 سے 70 فیصد ‘خبریں’ پریس ریلیز اور بیانات پر مبنی ہوتی ہیں. یہ تعداد پاکستانی انگریزی اخبارات میں گھٹ کر 40-50 فیصد رہ جاتی ہے. اشتہارات خبروں کی جگہ کا 40 سے 50 فیصد حصہ لے لیتے ہیں جو کہ کسی بھی معیاری جریدےکے لیے لمحہ فکریہ ہے جسکو قاری یا مشتہر کے درمیان اپنی ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے. خصوصی اشتہاری ضمیمہ ہرمغربی اور معیاری مشرقی اخبار نکالتا ہے اور اس سےصفحات بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سودا عدم خبریت اور قاری سے دھوکہ دہی کی صورت میں نہیں کیا جاتا. مزید برآں معیاری  فیلڈ رپورٹنگ کو ڈیسک رپورٹنگ اور پریس ریلیزوں اور بیانات پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے. پاک فیکٹ امید کرتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس معیار کے حصول کی کوشش کریں گے.

اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔
بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’  میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔