روزنامہ جنگ کا ایک اور سرقہ

اردو کے ‘موقر’ جریدے، روزنامہ جنگ کا ایک اور خبری سرقہ۔ کسی حوالے کے بغیر ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے سہیل حلیم کی کالم کی نقل

جنگ سرقہ

جنگ سرقہ

آصل خبر

سہیل حلیم۔، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/08/090828_advani_jinnah.shtml

روزنامہ جسارت کی پراپیگنڈہ رپورٹنگ - غزہ حملے اور سی این این پر غیر حقیقت پسندانہ الزام تراشی

روزنامہ جسارت کی اتوار 28 دسمبر کی اشاعت میں موجودہ درج ذیل  خبر جو غزہ حملوں اور سی این این میں اس کی رپورٹنگ کی عدم موجودگی کے بارے میں ہے سراسر بے بنیاد اور غیر ضروری پراپیگنڈہ رپورٹنگ کا شاہکار ہے.

From PakFact Blog

سی این این اوردیگرمغربی ذرائع ابلاغ  نے ان حملوں کو نا صرف اپنے ویب سایٹ کے صفحہ اول پر جگہ دی ہے بلکہ اپنی براڈکاسٹ میں بھی اس کو سر فہرست رکھا ہے۔ اس بات میں‌ بلاشبہ دو رائے موجود ہیں‌ کہ خبریں جانبدار ہیں یا غیر جانبدار لیکن ان کی موجودگی بلکہ ہمہ وقت موجودگی سے انکار اخبار کے قارئین سے کھلا دھوکا ہے۔

From PakFact Blog
From PakFact Blog

تجزیہ۔
پاک فیکٹ کے مطابق یہ محض  پراپیگنڈہ رپورٹنگ ہے اور یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور جسارت کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی یا دانستہ صرف نظر کا ثبوت۔

نوٹ:
غزہ کی صورت حال اور اس منظر میں پیش کی جانے والی رپورٹس کی جانبداری اور غیر جانبداری اس پوسٹ‌ کا بنیادی موضوع نہیں ہے اور نہ ہی اس میں‌ سی این این یا دوسرے بین الاقوامی میڈیا کے کردار کو موضوع بنایاگیا ہے اس سلسلے میں دوسری بحث رکھی جاسکتی ہے۔

بی بی سی اردو کو میعار پر توجہ کی سخت ضرورت ہے۔

ہم جنس شادیوں کا مسئلہ امریکہ میں ہمیشہ سے سیاستدانوں کے لیے درد سر رہا ہے اور اپنی اپنی الیکشن مہمات کے دوران انہیں اس حوالے سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے دوران جہاں امریکی ووٹروں نے صدارت کے لیے ووٹ ڈالے وہیں ریاست کیلیفورنیا میں ہم جنس شادیوں پر پابندی پر ریفرنڈم بھی ہوا تھا جسے ریاست کے ووٹروں نے منظور کیا اور ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کردی۔ اس پورے قصے کو بین الاقوامی میڈیا میں زبردست کوریج دی گئی۔ براک اوبامہ کی صدارت سنبھالنے کی تقریب کے دعائیہ کلمات کے لیے رک وارن کا انتخاب اس پورے قصے میں ایک نیا موڑ ہے۔ رک وارن سیڈل بیک چرچ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے پروپ آٹھ کی منظوری کے لیے خطیر رقم فراہم کی اسی وجہ سے بائیں بازوں کی طرف جھکاؤ رکھنے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں یہ انتخاب اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا۔

بی بی سی اردو کو آن لائن اردو خبروں کے لیے اہم ماخذ مانا جاتا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بی بی سی اردو اپنی خبروں کا میعار برقرار نہیں رکھ  پارہا ہے اور بعض او قات اس طرح کی غلطیاں بی بی سی اردو میں دیکھنے میں آرہی ہیں جو سرسری ایڈٹنگ میں ہی دور ہو جانی چاہییں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا میں ہم جنسوں کی شادی کے مسئلے پر بی بی سی نے ایک چھوٹی سی خبر لگائی ہے لیکن اس چھوٹی سی خبر میں تین اہم غلطیاں ہیں۔

From PakFact Blog

سان فرانسسکو امریکی ریاست نہیں ہے بلکہ ریاست کیلیفورنیا کا ایک بڑا شہر ہے۔
ہم جنس شادیوں کی اجازت سب سے پہلے ریاست میساچوسٹس نے دی نہ کے کیلیفورنیا نے۔
پروپ آٹھ کی منظوری کا تناسب باون اعشاریہ تین فیصد ہے نہ کہ باون اعشاریہ ایک فیصد۔ کیونکہ یہ اتنا سخت مقابلہ ہے کہ اس میں اعشاریہ دو فیصد کا فرق پورے قانون میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔

ریفرنسز۔
http://vote.sos.ca.gov/Returns/props/map190000000008.htm
http://www.chicagotribune.com/news/columnists/chi-oped1221pagedec21,0,5205139.column
http://www.cnn.com/2008/US/06/16/feyerick.samesex.marriage/index.html
http://en.wikipedia.org/wiki/Massachusetts

تجزیہ۔
ایک بڑے ادارے کے لیے خاص طور پر جب کہ اردو پڑھنے والے کئی لوگ آن لائن خبروں کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں بین الاقوامی حالات و واقعات میں اس طرح کی غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک عام اردو قاری اگر اس خبر سے جغرافیائی اور سیاسی حوالے حاصل کرے تو اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاک فیکٹ کے کئی بلاگرز کا عام مشاہدہ ہے کہ امریکی شہروں اور ریاستوں کے فرق کو اردو میڈیا میں ملحوظ نہیں رکھا جاتا اور ایک بڑی تعداد شکاگو، لاس اینجلس، نیویارک سٹی، فلیڈیلفیا اور سان فرانسسکو جیسے بڑے شہروں کو ریاست کہہ دیتے ہیں۔ پاک فیکٹ کے مطابق خانہ پری کے لیے لکھا گیا یہ مضمون انتہائی عدم توجہی کا مظہر ہے اور بی بی سی کی ایڈٹنگ اسٹاف کی لاعلمی کا ثبوت۔

کشمیر الیکشن کی بولتی تصویر

ملکی سلامتی کے معاملات اور حساس موضوعات پر آزاد سے آزاد ملکوں کا میڈیابھی کچھ نہ کچھ جانبداری دکھاتا ہے اور سو فیصد غیر جانبداری نا ممکن نہیں تو ایک مشکل امر ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت میڈیا کی اپنے اپنے ملکوں سے جانبداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور دونوں ہی ممالک کے میڈیا میں آنے والی خبریں‌ حقیقت سے اتنی دور ہوتی ہیں‌کہ کشمیریوں کی اصل آواز سننے کے لیے آپ کو لامحالہ بیرونی ذرائع پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی اخبارات و جرائد کے مطابق انتخابات مکمل مسترد کردیے گئے تو بھاری میڈیا کے مطابق ٹرن آؤٹ 66 فیصد تھا اور یہ بات عام لوگوں کے علم میں‌ ہے کہ دونوں‌ ہی دعوے حقیقت کے ترجمان نہیں۔

کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن کہیں‌بہتر ہوتا ہے، اس تصویر کو دیکھیے اور اس پر دیے گئے کیپشن کو دیکھیے۔

From PakFact Blog

تجزیہ:
اس تصویر کا تجزیہ پاک فیکٹ‌ اپنے قارئین پر چھوڑتا ہے۔

اردو بلاگرز کی نا اہلی

اردو بلاگنگ ابتداء سے ہی بے انتہا مسائل کا شکار رہی ہے اور اب تک ایسی توجہ نہ حاصل کرسکی جس کی وہ بلاشبہ مستحق ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں صورت حال میں نہایت مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ صرف یہ کہ اردو بلاگنگ تیزی سے آگے کی طرف بڑھی ہے بلکہ کئی نئے اور اچھے لکھنے والوں نے بھی اردو بلاگنگ کی شروعات کردی ہیں۔ اردو بلاگنگ کو ابتداء میں سیاسی بلاگنگ کا جو الزام سہنا پڑتا تھا اس کا اثر بھی اب بہت حد تک زائل ہوچکا ہے اور اب تقریباَ ہر موضوع پر اردو بلاگنگ باقاعدہ ہونے لگی ہے۔ مثال کے طور پر تیکنیکی، ادبی، سیاسی، سماجی، مزاح سے بھرپور موضوعاتی اردو بلاگز نہ صرف موجود ہیں بلکہ بہت فعال بھی ہیں۔

اردو بلاگنگ کی ترقی میں اردو ٹیک کا  بڑا ہاتھ ہے اور نئے لکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد اردو ٹیک کی بدولت ہی بلاگنگ کی طرف آئی ہے۔ اردو ٹیک اور اردو محفل کو ایک طرح سے اردو بلاگنگ کی ریڑھ ہڈی کہہ سکتے ہیں۔

حال ہی میں اردو بلاگرز نے کراچی میں بلاگرز کی ایک کانفرنس میں اردو بلاگنگ کی نمائندگی کی جس کی تفصیل ابن ضیاء کے بلاگ پر موجود ہے۔ پھر ابو شامل نامی بلاگر نے بھی جسارت میں شائع ہونے والے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی جس میں اردو بلاگنگ کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اتنے اہم اور اردو بلاگز کی تشہیر کے نادر موقع پر اردو ٹیک پر موجود تمام بلاگز کا یکایک منظر عام سے غائب ہوجانا اردو بلاگنگ کے لیے ایک دھچکہ ہے اور غالبا اس سے پہلی دفعہ اردو بلاگز پر آنے والے قارئین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔

تجزیہ۔
ورڈ پریس جیسی آسان اور سادہ ایپلیکشن کی موجودگی میں کئی اردو بلاگز کا یوں منظر عام سے غائب ہوجانا پاک فیکٹ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق انتہائی درجے کی نا اہلی ہے۔ اردو بلاگز کا سیٹ اپ اب کسی صورت راکٹ سائنس سے مماثلت نہیں رکھتا اور کئی دن گزر جانے کے باوجود تمام بلاگز کا منظر عام سے غائب رہنا انتہائی مایوس کن اور اردو بلاگرز کی سستی اور تکنیکی اعتبار سے نااہلی کا مظہر ہے۔

اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008 ۔
اردو ٹیک کے تمام بلاگز ابھی تک آف لائن ہیں اور اس سلسلے میں ایک دو یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی

‘غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت - روزنامہ جرات کی تعصب انگیز ‘خبر

جہاںسنسنی خیزی اور’نیوز بریکنگ’ پاکستانی صحافتی کلچر کا حصہ بن چکا ہے وہاں چند اداروں کی پالیسیاں  بھی نام نہاد خبروں کی صورت میں نظر آتی ہیں جو کہ پیشہ وارانہ صحافت کے ساتھ سنگین مزاق ہے. یہ بات درست ہے کہ صحافت خلا میں رہ کر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہر خبرکا فی النفسہی غیر جانبدارانہ ہونا ممکن ہے لیکن  سیاسی جانبداری کی اس دنیا میں بنیادی صحافتی اقدار کی پامالی کی مثال روزنامہ جرات کی 11 نومبر کی شائع کردہ مندرجہ زیل ‘خبر’ سے ظاہر ہوتی ہے.

اس ‘خبر’  کے بے بنیاد ہونے کے لیے نا صرف اس کے جملہ الفاظ کافی ہیں بلکہ اس میں حوالہ جات کا فقدان اور عدم  پڑتالی ذرائع (unverifiable sources) کا استعمال سونے پر سہاگے کے مصداق ہے. تعصباتی عینک پہن کر لکھی گئی اس خبر میں نہ تو کسی ادارے یا ‘منی چینجرآرگنازیشن کی مثال دی گئی ہے بلکہ ٹیلیفون پر جس رازونیاز کی بات کی جا رہی ہے، اس تک رسائی کے ذرائع بھی نہیں بتاے جا رہے جو کہ یقینا ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے. پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق ، مندرجہ بالا خبر صحافتی معیار سے حد درجہ گر کر تحریر کی گئی ہے اور کسی موقر جریدے میں جو صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہو، اس کی اشاعت ناممکنات میں شمار ہوگی. اس خبر کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ صحافت کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے.

پاکستانی میڈیا میں بلاگنگ کی زبوں حالی۔

بلاگنگ کی بنیادی تعریف کی رو سے بلاگنگ دراصل ذاتی یا شخصی خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ مانی جاتی ہے اور کم و بیش اسی تعریف کے مطابق دنیا بھر میں لا تعداد بلاگز روزانہ کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں۔ مختلف ادراوں خاص طور پر اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے بلاگز پر بھی عموماَشخصی اظہاریے ہی پیش کیے جاتے ہیں جس میں قارئین کی رائے اور تبصروں کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے اور یہ صورت حال کسی خاص زبان اور خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔

اپنے پچھلے مضمون میں پاک فیکٹ نے پاکستانی میڈیا میں فیلڈ ورک کے فقدان پر روشنی ڈالی تھی اسی ضمن میں اگر آپ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد اور خبر رساں اداروں سے پاکستانی اداروں کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اول تو کئی اداروں نے ابھی تک اپنے برقی جریدوں میں بلاگز کا شعبہ شروع ہی نہیں کیا اور جن ادراوں نے بلاگز کی شروعات کی ہیں انہوں نے بلاگز کی بنیادی تعریف کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی خاص خبر یا واقعہ پر عوامی رائے کے سلسلے کو بلاگ کا نام دے رکھا ہے۔

پاک فیکٹ نے اپنی ریسرچ کے سلسے میں مندرجہ ذیل برقی جریدوں اور خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس میں بلاگنگ کا میعار جانچنے کی کوشش کی تو نتائج کچھ اسطرح حاصل ہوئے۔

جنگ گروپ آف نیوز پییپرز
جنگ اردو بلاگ
جنگ انگریزی بلاگ
دونوں بلاگز میں کسی خبر یا واقعے پر عوامی رد عمل کو بلاگز کا نام دیا گیا ہے سب سے منفرد صورت حال یہ ہے کہ بلاگر کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے یعنی ادارے کی طرف سے خانہ پری کی ایک کوشش ہے حالانکہ جنگ کے پاس لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنے والے عوامی پرکھ سے گزرنے کی اہلیت یا ہمت نہیں رکھتے۔ پاک فیکٹ نے متعدد بار اخبار کے اظہاریہ نویسوں کو مبہم یا غلط معلومات فراہم کرنے پر وضاحت کے لیے ای میلز لکھے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈان اخبار
ڈان اخبار انگریزی زبان کا متعبر نام مانا جاتا ہے اور بین الاقوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلز میں پاکستان کے حوالے سے ڈان کے نامہ نگاروں کے انٹرویوز نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ڈان اخبار کی موجودہ اور بیٹا ورژن موجود نئی ویب سائٹ میں بلاگنگ کے حوالے سے کوئی شعبہ موجود نہیں۔ ڈان اخبار کا بلاگنگ سے اس طرح صرف نظر نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

آج ٹی وی
آج ٹی وی کی نیوز ویب سائٹ میں‌ بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز ٹی وی
سائٹ کئی مہینوں سے تکمیل کے مراحل میں ہے

اے آر وائی ون ورلڈ
بلاگنگ کا شعبہ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امت، جسارت اور دوسرے چھوٹے بڑے آن لائن اخبارات میں میعاری بلاگنگ کا فقدان ہے۔

اسی پس منظرمیں یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ بڑے اداروں خصوصا اردو اخبارات میں ٹیکنالوجی کا میعار انتہائی پست ہے۔ اب جبکہ ورڈ پریس اور جوملہ جیسے اوپن سورس پراجیکٹ موجود ہیں پست میعار کی ویب سائٹس جو نہ صرف یہ کہ اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے کرسمس ٹری معلوم ہوتی ہیں بلکہ کسی طرح کا بھی بہتر یوزر انٹرفیس فراہم کرنے سے بھی معذور ہیں مثال کے طور پر جنگ گروپ کی ویب سائٹس کے چند صفحات کا جائزہ لینے سے ہی چار سے پانچ براؤزر ونڈوز کھل جاتی ہیں جو انتہائی برا میعار مانا جاتا ہے۔

تجزیہ
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستانی بلاگرز انتہائی میعاری بلاگنگ کررہے ہیں اور اکثراوقات اخباری خبروں کے شائع ہونے سے پیشتر ہی بلاگز پر واقعات کا مکمل احاطہ کرلیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی خبر رساں ایجنسیز، اخبارات اور ٹی وی چینلز کا میعاری بلاگنگ نہ فراہم کرنا انتہائی افسوس ناک اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف سے عدم توجہی کا مظہر ہے۔

نوٹ
پاک فیکٹ کا یہ مضمون نیک نیتی پر مبنی ہے اور کسی قسم کی تنقید برائے تنقید مقصود نہیں۔ میعاری اردو بلاگنگ کا فروغ ہمارا نصب العین ہے اور مضمون میں کسی بھی سقم کی نشاندہی کے لیے تبصرے کی مکمل آزادی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ قارئین تک پہنچائیں اور ریفرنس کے ساتھ فراہم کردہ تصیح یا معلومات فوری طور پر بلاگ میں اپ ڈیٹ کردی جاتی ہیں۔

پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان.- ایک تنقیدی جائزہ

پاکستانی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کا ‘کمرشلزم ‘ ہمیشہ سے عروج پر رہا ہے جس میں پچھلے کئی سالوں سے مزید تیزی آ رہی ہے. اس بڑھتے ہوے غیر صحتمندانہ رجحان  کی وجہ سے صحافت کی بنیاد جو کہ عوام الناس کو معیاری اور غیر جانبدارانہ خبریں مہیا کرنا ہے، نظریہ ضرورت کی نذر ہوتی جا رہی ہے جہاں ضرورت کے معنی اخبارات کے صفحات کا اشتہارات سے پیٹ بھرنا ٹہرا. اسی ضمن میں صفحات کی ‘بھرتی ‘ کے لیے خبروں کے بجاے بیانات اور ‘پریس ریلیزوں’ کا سہارا بھی صحافتی اقدار کو منہ چڑاتا ہے.
پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق یہ رجحان نا صرف اردو بلکہ انگریزی جریدوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوے ہے جہاں آدھے یا چوتھای صفحے کا اشتہار، لوح یا پچھلے صفحے پر معمولی بات سمجا جاتا ہے. پریس ریلیزیز اور بیانات پر انحصار درحقیقت ‘فیلڈ ورک’ یا تحقیقی کام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے جس میں اخبارات ،صحافتی اور تحقیقی سرگرمیوں میں معاونت کے بجاے ڈیسک رپورٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں. مندرجہ زیل الواح ان رجحانات کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں
Jang Frontpage Express Newspaper Dawn Frontpage

اب اس کا موازنہ ‘ مغربی مرعوبیت’ کی مہر کے بغیر چند دیگر ذرائع ابلاغ سے کیا جائے تو نتیجہ سامنے ہے

Los Angeles Times Front Page New York Times

پاک فیکٹ کی تحقیق کے مطابق عمومی طور پر پاکستانی اردو اخبارات کی الواح اور اہم صفحات پر 65 سے 70 فیصد ‘خبریں’ پریس ریلیز اور بیانات پر مبنی ہوتی ہیں. یہ تعداد پاکستانی انگریزی اخبارات میں گھٹ کر 40-50 فیصد رہ جاتی ہے. اشتہارات خبروں کی جگہ کا 40 سے 50 فیصد حصہ لے لیتے ہیں جو کہ کسی بھی معیاری جریدےکے لیے لمحہ فکریہ ہے جسکو قاری یا مشتہر کے درمیان اپنی ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے. خصوصی اشتہاری ضمیمہ ہرمغربی اور معیاری مشرقی اخبار نکالتا ہے اور اس سےصفحات بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سودا عدم خبریت اور قاری سے دھوکہ دہی کی صورت میں نہیں کیا جاتا. مزید برآں معیاری  فیلڈ رپورٹنگ کو ڈیسک رپورٹنگ اور پریس ریلیزوں اور بیانات پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے. پاک فیکٹ امید کرتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اس معیار کے حصول کی کوشش کریں گے.

اپ ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔
بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’  میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔

آدھا ملک پٹے پر؟ بی بی سی اردو کی غیر میعاری رپورٹنگ۔20 نومبر 2008

بی بی سی اردو کے بین الاقوامی صفحے پر جنوبی کوریائی کمپنی ڈائیوو کے متعلق خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ کمپنی نے افریقی ملک مڈگاسکر کی پچاس فیصد زمین یعنی آدھا ملک لیز یا پٹہ پر حاصل کر لیا ہے۔ خبر بذات خود اچنبھے کا باعث ہے اور ایک صحافی کے لیے ناقابل یقین۔ بلاگر قدیر احمد نے اس لنک کو اپنے بلاگ میں شائع کیا اور فوراَ ہی زیک نامی مبصر نے اس کی تصیح کر دی کہ دراصل حاصل کی گئی زمین پورے ملک کے مکمل رقبے کا صرف 2 فیصد ہے نہ کہ پچاس فیصد۔

پاک فیکٹ نے قارئین کے لیے مکمل اعدادو شمار اکھٹے کیے ہیں اور ایک اور پہلو سے انتہائی درجے کی غفلت کا جائزہ لیا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ڈائیوو کی لیز کردہ کل زمین تین اعشاریہ دو ملین ایکڑ ہے جس کو سادہ ضرب تقسیم کی مدد سے مربع کلو میٹر میں تبدیل کیا جائے تو 12949 مربع کلو میٹر بنتے ہیں۔ مڈگاسکر کا کل رقبہ 587041 مربع کلو میٹر ہے یعنی حاصل کی گئی زمین صرف اور صرف دو اعشاریہ دو فیصد ہے۔

سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی بی سی کی ورلڈ سروس یا انگریزی ورژن میں خبر کو اسطرح پیش نہیں کیا گیا لیکن اعدادو شمار میں پھر بھی فرق نظر آتا ہے جس سے مختلف زبانوں کے لیے ایک ہی ادارے کی طرف سے مختلف میعارات کا شائبہ ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اردو سیکشن میں بین الاقوامی خبروں میں اسے سر فہرست دکھایا گیا ہے جبکہ فارسی اور عربی کے بین الاقوامی سیکشن میں اُسی وقت اس خبر کا کوئی تذکرہ نہیں اور نہ ہی انگریزی ورژن میں اسے شہ سرخی کا درجہ دیا گیا ہے۔




تجزیہ
پاک فیکٹ کے مطابق بی بی سی جیسے بڑے ادارے سے اسطرح کی خبروں کی اشاعت سنگین درجے کی غفلت اور مختلف زبانوں کی خبروں کے دوہرے میعارات کا مظہر ہے۔ گو کہ اس خبر کا اثر بہت محدود ہے لیکن ملکی سطح کے کسی بڑے واقعے میں ایسی غفلت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

References:
Bloomberg News
http://en.wikipedia.org/wiki/Madagascar
http://www.metric-conversions.org/area/acres-to-square-kilometers.htm

اپ ڈیٹ 1، نومبر 29، 2008۔
پاک فیکٹ نے بی بی سی اردو کو اس خبر سے متعلق وضاحت کے لیے رابطہ کیا، تاحال کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا ہے اور خبر ویب سائٹ پر موجود ہے۔

علمی سرقہ - روزنامہ جسارت اور بی بی سی اردو ایڈیشن 18 نومبر 2008

قارئین کے علم میں یہ بات ہوگی کہ بیشترپاکستانی انگریزی اور اردو اخبارات انٹرنیٹ اور دیگراخباری ذرائع سے حاصل کی گی خبروں اور کالموں کو بلا کسی حوالے یا انتہای مختصریک حرفی استعارے کے ساتھ اپنا بنا کر چھاپ دیتے ہیں جو کہ صحافتی اور علمی اصولوں کے علاوہ عمومی اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے اور چوری یا علمی سرقہ کے زمرے میں آتا ہے. اس کی ایک تازہ مثال بی بی سی اردو کے کالم نگار وسعت اللہ خان صاحب کا 18 نومبر کا مضمون “بس میرا نام نہ آئے” ہے جو کہ روزنامہ جسارت نے اپنی 19 نومبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع کیا ہے. ستم ظریفی یہ کہ یہ مضمون بذات خود “آزادی صحافت” کی اس صنف کی جانب اشارہ کرتا ہے جہاں پر ‘انٹرنیٹ صحافی حضرات’ علمی سرقے کے مرتکب ہوتے ہیں اور بعد ازاں ان چوری کی گیء خبروں کو ‘آن لائن نیوز’، ‘انٹرنیٹ ڈیسک’ یا اس صورت میں جسارت نیوز کے نام سے چھاپ دیا جاتا ہے.  وسعت اللہ خان اپنے کالم میں لکھتے ہیں

“متعدد اخبارات و چینلز کسی بھی ویب سائٹ یا نشریاتی چینل سے مواد ، مضامین اور کالم لے اڑتے ہیں اور پھر انہیں بغیر حوالے کے اس طرح سے شائع یا نشر کرتے ہیں جیسے یہ خالصتاً ان کی کاوش ہو۔شاید سرقے، چوری اور اشاعتی حقوق کی پامالی کو بھی آزادی صحافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے

اور غالبا ان کے یہ الفاظ درست ثابت کرنے کی کاوش میں  روزنامہ جسارت نے وہی کیا جس کا اس کالم میں ذ کر کیا گیا ہے.

تجزیہ:
پاک فیکٹ کی ریسرچ کے مطابق اخبارات مجرمانہ درجے کے علمی سرقہ میں ملوث اور عدم توجہی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور یہ کاپی رایٹ قوانین کی صریحا خلاف ورزی اورعام قاری سے دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے. کالم کو علمی سرقہ، سنگین غفلت  اور کاپی رائٹ قوانین کی صریحاَ خلاف ورزی  کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔

:حوالہ جات

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081118_geo_secret_rza.shtml
http://www.jasarat.com/2008/11/19/mm/01.jpg